خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 52

خطبات طاہر جلد ۹ 52 42 خطبہ جمعہ ۲۶؍ جنوری ۱۹۹۰ء ہے۔لیکن آغاز کے اسلام کے لئے غیر معمولی عرفان کی ضرورت نہیں ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی مثال پیش کرتے ہوئے مختلف مثالیں دیں مختلف رنگ میں بیان فرمایا۔کہیں فرمایا ایمان العجائز اختیار کرو یعنی بوڑھیوں والا ایمان اختیار کرو جس کے نتیجے میں دل میں سوال نہیں اٹھتے۔ان کا ایمان اس قسم کا ایمان ہوتا ہے جو زلزلوں سے بچارہتا ہے،ان کے اندر گہرا نصب ہوتا ہے۔گویا وہ اسی طرح پیدا کی گئی ہیں اور ان کے ذہن میں اس کے متعلق کوئی سوال نہیں اٹھتے۔اس کے نتیجے میں ان کو اطاعت بھی اسی درجے کی عطا ہوتی ہے اور ان کی اطاعت میں غیر معمولی پختگی پائی جاتی ہے۔پس آپ نے اپنے گھروں میں، دیہات میں ،شہروں میں ایسی بڑی بوڑھیاں ضرور دیکھی ہوں گی جن کا ایمان بہت راسخ ہوتا ہے اور ان کے اعمال بھی باقاعدہ معین رستوں پر اس طرح چلتے ہیں جیسے خود رو ہوں اور ان میں کسی جبر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ان رستوں پر چلنے کی ان کو ایسی عادت پڑ چکی ہوتی ہے کہ وہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتیں ان کا نمازیں پڑھنا، ان کا تلاوت کرنا، ان کا درود شریف پڑھنا ان کا ذکر الہی کرنا ایک ایسے ایمان کے نتیجے میں ہوتا ہے جس کی تفاصیل سے وہ بے خبر ہیں۔یعنی بظا ہر فکر ونظر کی وہ طاقتیں ان میں موجود نہیں ہیں جس کے نتیجے میں صاحب ایمان کو مزید عرفان نصیب ہوتا ہے لیکن تقویت بڑی ہے بڑا راسخ عقیدہ ہے اور اتنا یقین ہے جس میں کوئی تزلزل نہیں آسکتا۔اسی نسبت سے ان کا اسلام بھی بہت ہی پختہ دکھائی دیتا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی رخنہ آپ کو نظر نہیں آئے گا۔پس عامتہ المسلمین کے لئے اس سے بہتر اور کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو ایک اور رنگ میں بھی بیان فرمایا اور فرمایا کہ مجھے تو فلسفیوں کا ایمان ، بودا ایمان پسند نہیں۔میں تو بچوں کے ایمان کو اس پر ترجیح دیتا ہوں ایک طرف بوڑھوں کا ایمان بتایا تو دوسری طرف بچوں کا ایمان بتایا۔ان دونوں میں ایک مماثلت پائی جاتی ہے ایک قدر مشترک پائی جاتی ہے۔بچوں کا ایمان بھی کسی فکر ونظر کا نتیجہ نہیں ہوا کرتا بلکہ ان کے دل میں جو ایک بات بیٹھ جائے وہ بیٹھ جاتی ہے اور بڑی معصومیت کے ساتھ وہ اس کی پیروی کرتے ہیں۔یعنی فکر و نظر سے عمل کے بغیر سوچ کے بغیر جو ان کے دل میں ایک یقین بیٹھ جاتا ہے وہ اس یقین کے مطابق اپنی حرکات و سکنات کو ڈھالتے ہیں، اس کے مطابق وہ ایک رویہ اختیار کرتے