خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 564 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 564

خطبات طاہر جلد ۹ 564 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء کے کام آسان کئے اور ان کے دست راست کے طور پر ایسا دست راست جو خفی طور پر چلتا رہا ان کے بہت ہی بوجھوں کو اٹھایا اور ان کی مدد کی۔ان کا خاندان آپ جانتے ہیں چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندان ہے یا شاید آپ نہ بھی جانتے ہوں۔یہ ہم نام بھی تھے اور کئی پہلوؤں سے ان کی خوبیوں کے بھی مالک تھے پس ایسے لوگ جواب رخصت ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو اس دنیا میں ان کی نیکیوں کی جزاء دے جن کی اس دنیا میں ان کو توفیق ملی اور ان کی اگر کمزوریاں رہ گئی تھیں تو اللہ ان کی پردہ پوشی فرمائے اور آئندہ نسلوں کو ان کمزوریوں سے بچائے اور ان کی خوبیاں ان میں جاری فرمائے۔برادرم مرزا منور احمد صاحب کا خط ان کے وصال کے بعد ملا ہے یعنی جس دن وصال کی اطلاع ملی اسی دن ان کا خط ملا جس میں انہوں نے ایک خواب لکھی ہے جو شاید پہلے ملتی تو مجھے سمجھ نہ آتی کہ اس کا کیا مفہوم لیکن عین اس وقت ملی جبکہ اس کا مفہوم ظاہر ہو چکا تھا۔وہ لکھتے ہیں کل خواب میں دیکھا کہ غالبا نماز تراویح پڑھا رہا ہوں اور تمام قرآن کریم اس وقت پڑھ کر ختم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ میرا انجام بخیر فرمائے۔اس رؤیا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو محسوس ہو گیا تھا کہ وقت قریب آرہا ہے اور خدا کے فضل سے خوشخبری بھی ملی ہے کہ انجام بخیر ہے کیونکہ جس رنگ میں انجام کی خبر دی گئی بہت ہی پیارا رنگ ہے۔انہوں نے ساری عمر کبھی تراویح نہیں پڑھا ئیں اور نہ ہی کبھی ایسی خواب پہلے دیکھی ہوگی۔میرے علم میں تو کبھی نہیں۔پس وفات سے کچھ عرصہ پہلے رویا میں اس قسم کا انجام دکھایا جانا بہت ہی مبارک انجام ہے۔جس دن ان کی وفات ہوئی ہے اس سے دورات پہلے یہاں دو مختلف لوگوں نے خواہیں دیکھیں وہ بھی ایسا رنگ پیش کرتی ہیں کہ اگر اس وقت وفات سے پہلے بتائی جاتیں تو سمجھ میں نہ آتی کہ کیا بات ہے لیکن دونوں خوا میں ایک ہی رات دکھائی گئیں اور دراصل ایک ہی منظر کے دو پہلو ہیں اور وفات کے بعد پھر وہ بالکل صاف دکھائی دیتا ہے کہ کیا مطلب تھا۔ایک ہماری خاتون جو خدا کے فضل سے کئی دفعہ بہت ہی اچھی سچی خوابیں دیکھنے والی ہیں انہوں نے عزیزم مرزا مبشر احمد کو جو بھائی منور کے صاحبزادے ہیں ان کو دیکھا کہ بہت مغموم دکھائی دے رہے ہیں اور اسی رات میری اہلیہ نے خواب میں نواب محمد احمد خان صاحب مرحوم کو جو ان کی بیگم کے بھائی اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کے بڑے صاحبزادے تھے ان کو دیکھا کہ بہت ہی خوش کسی کا