خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 562
خطبات طاہر جلد ۹ 562 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء کرنا، زیادہ انکسار اختیار کرنا اور بہت سی خوبیاں ہیں جو خدا کی خاطر تکلیف اٹھانے کے نتیجے میں خود بخود پیدا ہوتی ہیں۔تو اگر تنگی نہ ہو تو وہ خوبیاں پیدا ہوں گی اگر تنگی ہوگی تو وہ خوبیاں ضائع ہو جائیں گی۔پس جب میں تنگی کہتا ہوں تو اس وسیع مضمون کو پیش نظر رکھ کر یہ الفاظ استعمال کر رہا ہوں کہ امراء کو اور عہدیداران کو چاہئے کہ ماتحتوں میں جب اس قسم کی خامیاں دیکھیں تو تنگی محسوس کرنے کی بجائے ان کے لئے درد محسوس کریں اور ان کو نصیحت کریں اور ان کو اس طرح پرورش دیں کہ گویا ان کے اپنے وجود کی بناء ان پر ہے۔اس پہلو سے عہدیدار اور امیر درخت کا وہ حصہ بن جاتا ہے جو باہر نکلا ہوا ہے جس کی شاخیں آسمان پر ہیں اور یہ تمام عہدیداران اور کارکن اس کی جڑیں بن جاتے ہیں۔پس ایک اور منظر ہمارے سامنے ابھرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر عہد یدار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے ماحصل کی بلندی اور جو کچھ وہ خدا کی نظر میں حاصل کرتا ہے اس کی رفعت اس بات پر منحصر ہے یعنی اس بات پر بھی بہت حد تک منحصر ہے کہ ان کے ماتحتوں کا تقویٰ کیسا ہے۔اگر وہ متقی ہوں گے اگر وہ پیوستہ ہوں گے اور گہرے ہوں گے اور ثابت کہلا سکتے ہوں گے تو ایسے امیر کا درخت بہت رفعتیں اختیار کرے گا اور اس کے کاموں کو بہترین پھل لگیں گے۔پس اس نئی تعریف کی رو سے ، اس نئے زاویہ کی رو سے پھلوں کی تعریف بدل جاتی ہے۔یہاں پھلوں سے مراد ہے جماعت کی اجتماعی کوششوں کا پھل جتنا زیادہ جڑیں اچھی ہوں گی اور ان کے تقویٰ پر امیر کی یادیگر عہدیداران کی نظر ہوگی اسی حد تک ان لوگوں کی اجتماعی کوششیں پھل لائیں گی اور اس کے نتیجے میں امیر چونکہ ان کا نمائندہ ہے اور ان کا ایک Symbol بن جاتا ہے اس لئے اس کی رفعتیں یعنی امیر کی سر بلندی اور اس کی ترقی در اصل ساری جماعت کی سربلندی اور ساری جماعت کی ترقی ہے۔تو اس پہلو سے گہری نظر رکھتے ہوئے اپنے ماحول کی نگرانی کرنی چاہئے۔کمزوریوں پر بھی نگاہ رکھنی چاہئے۔تقویٰ سے وابستہ ان فتنوں پر بھی نگاہ رکھنی چاہئے جن میں سے بعض کی مثال میں نے دی ہے لیکن اور بھی بہت سے فتنے ہیں جو نیکی کا روپ دھار کر جماعتوں کو شیطانی وساوس میں بھی مبتلا کرتے ہیں اور شیطانی تحریکات کو پھیلانے میں مدد دیتے ہیں ان سب پر نگاہ رکھتے ہوئے اور