خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 561
خطبات طاہر جلد ۹ 561 خطبه جمعه ۲۱ / ستمبر ۱۹۹۰ء پرورش کرتی ہے۔جس طرح ایک زمیندار اپنے درختوں کی پرورش کرتا ہے اور ہر ایسا ذریعہ استعمال کرتا ہے جس سے یہ صفات پیدا ہوں جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں، اسی طرح امراء اور عہد یداران کو اپنے ماتحت عہدیدار ان کی تربیت کرنی چاہئے اور ان سے معاملات کے درمیان جب ایسی باتیں دکھائی دیں جن سے معلوم ہو کہ بعض پہلوؤں سے ان کے تقویٰ میں کمزوری ہے۔بعض دفعہ جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں، بعض دفعہ کسی شخص سے اس بنا پر حسد کرنے لگتے ہیں کہ اس کو امیر کا زیادہ قرب حاصل ہے اور اس کی کمزوریوں کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔بعض دفعہ اپنے مزاج کے اختلاف کی وجہ سے دوسرے کی اچھی بات بھی ان کو بری لگنے لگ جاتی ہے اور مجلس عاملہ میں اس بنا پر پارٹی بازی شروع ہو جاتی ہے بعض دفعہ گروہی تعلقات کی بنا پر مشورے غلط دیئے جاتے ہیں اور جس کے ساتھ زیادہ دوستی ہو اس کی ضرور تائید کرنی ہے۔اگر ضرور نہیں تو اکثر صورتوں میں تائید کرنی ہے۔اس قسم کی بہت سی بیماریاں ہیں جو جڑوں کو کھانے والی ہیں۔ایسے درختوں کی جڑیں بظاہر گہری بھی ہوں تو ثابت نہیں کہلا سکتیں۔پس ایک امیر کے لئے ایک صدر کے لئے یا دوسرے منتظم کے لئے اگر وہ اپنا تقویٰ کا معیار بڑھالے اور خدا کے نور سے دیکھنے لگ جائے یہ باتیں معلوم کرنا ہرگز مشکل نہیں ہے۔اس لئے ان باتوں پر وہ تنگی محسوس کرنے کی بجائے ایسے لوگوں کے لئے گہری ہمدردی کے جذبات رکھے ان کی خاطر دکھ محسوس کرے۔تنگی اور چیز ہے اور دکھ اور چیز ہے ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔تنگی کے نتیجے میں بعض امراء پھر بیزار ہونے لگتے ہیں۔کہتے ہیں کیا بکواس ہے۔کس قسم کے بیہودہ لوگ ہیں اور ان کے دل اچاٹ ہونے لگ جاتا ہے۔دکھ کے نتیجے میں ان کے لئے زیادہ فکر ، ان سے زیادہ گہرا تعلق ہونے لگ جاتا ہے۔پس تنگی محسوس کرنے کی بجائے ان کے لئے دکھ محسوس کرنا چاہئے۔تنگی کو خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہا مأفرمایا: ولا تسئم عن الناس۔( تذكره صفحه : ۱۹۷) یہاں تَستَم کا جو مضمون ہے یہ تنگی کا مضمون ہے۔تکلیف تو تجھے لوگوں کے کثرت سے آنے کے نتیجے میں پہنچے گی۔بے وقت تجھ سے مطالبات کرنے کے نتیجے میں لیکن دل میں تنگی نہ پیدا کرنا۔ہاں تکلیف کے نتیجے میں جو دوسرے لوازمات ہیں ان سے تو انسان کو مفر نہیں ہے۔ان میں دعا کی طرف متوجہ ہونا قربانی کی روح اختیار