خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 560
خطبات طاہر جلد ۹ 560 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء طرح منہدم ہو جاتے ہیں جس طرح بعض دفعہ کھو کھلی جڑوں والے درخت گر جاتے ہیں۔پیچھے جب آندھیاں آئیں تو جن پارکوں میں، کبھی کسی میں کبھی کسی میں ، ہم سیر پر جاتے رہے ہیں۔ان میں جب سیر پہ جانے کا موقعہ ملا تو میں نے تعجب سے دیکھا کہ بہت ہی عظیم الشان درخت جن کا بہت رعب پیدا ہوتا تھا ان کی جڑیں سطحی تھیں اور اکثر درخت جڑوں سے اکھڑے ہوئے ہیں۔ان کی جڑیں بھی ساتھ اکھڑی ہوئی ہیں۔ان کے اوپر لفظ ثابت کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ثابت لفظ میں دونوں خوبیاں آجاتی ہیں۔ایسی جڑیں جو مضبوط ہوں اور درخت کو تحفظ دیں اور ایسی جڑیں جو گہری ہوں کیونکہ ابتلاء کے وقت اگر وہ گہری نہیں ہوں گی تو ثابت نہیں رہ سکیں گی۔اس لئے مضبوط بھی ہوں تو کافی نہیں۔پس قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا یہ کمال ہے کہ اس نے تقویٰ کے درخت کی مثال ایسے جڑوں والے درخت کی مثال سے دی ہے جس کی جڑیں ثابت ہوں یعنی مضبوط بھی ہوں اور گہری بھی ہوں اور ابتلاء کی کوئی آندھی انہیں ہلا نہ سکے اور ہر حال میں نشو ونما پانے والے ہوں۔جتنی ان کی جڑیں ثابت ہوں گی یعنی مضبوط اور گہری ہوں گی اتنا ہی ان کا تقویٰ مضبوط ہوگا۔دراصل یہ تقویٰ کی تعریف ہے یعنی انکساری وہ جو حقیقی اور عارفانہ انکساری ہے اور چھپی ہوئی نیکیاں وہ جو جراثیم کے اثر سے پاک ہیں اور ان کے نتیجے میں ان کے درخت وجود کو ایک مضبوطی اور طاقت ملتی ہے۔یہ تقویٰ کی بہترین مثال دی گئی ہے جتنی نیکیاں ان کی چھپی ہوئی ہیں اتنا ہی ان کے درخت کو اللہ تعالیٰ رفعتیں عطا کرتا ہے۔ان کی نیکیاں جتنی صحت مند ہیں اتنا ہی وہ آزمائشوں کے مقابل پر ثابت قدم ہونے کی استطاعت رکھتے ہیں اور طاقت پاتے ہیں۔ایسے درختوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر حال میں پھل لگتے رہتے ہیں اور ان کے پھل دائمی ہوتے ہیں۔آسمان سے ان کو پھل ملتے ہیں لیکن جڑیں ان کی ان کے انکسار کی وجہ سے چھپی ہوئی ہوتی ہیں اور زمین کے اندر گہری داخل ہو جاتی ہیں اور ان کی گہرائی کا تناسب ان کی بلندی کے ساتھ ہے ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ یہ دو متقابل تصویریں ہیں جن کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔جتنی ثابت ہوں گی ، جتنی مضبوط اور گہری ہوں گی اتنا ہی درخت بلند تر ہوتا چلا جائے گا۔پس اس پہلو سے ان صفات کی پرورش کرنے کی ضرورت ہے یعنی جس طرح ماں بچوں کی