خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 559 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 559

خطبات طاہر جلد ۹ 559 خطبہ جمعہ ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء بعضوں کے ملے جلے حالات بھی ہوتے ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا حال ہے ، کچھ خرچ کرنے والے بھی ہیں لیکن بعض دفعہ ریا کاری ان کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہے۔نیک بنے کا شوق اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی ان سے جھک کر سلام کرتا ہے۔ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے اور بڑے مزے سے ہاتھوں کو لمبا کر کے اس پہ بوسہ وصول کرتے ہیں اور متقی وہ ہے جو شرم سے غرق ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرا کوئی حق نہیں ہے اگر یہ شخص میری بدیوں پر نظر ڈالے تو متنفر ہو کر مجھے پیٹھ دکھا کر چلا جائے اور اب ان دونوں کے دل کے معاملات ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون متقی ہے اور کون نہیں مگر وہ لوگ جن کو خدا اپنا نور عطا کرتا ہے وہ ظاہری طور پر ثبوت نہ ہونے کے باوجود جانتے ہیں کہ کن میں بچے تقویٰ کی روح ہے اور کن میں بچے تقویٰ کی روح نہیں ہے۔اس دوسرے پہلو سے تقویٰ کا معیار بڑھانے کے لئے انکسار کا معیار بڑھانا ضروری ہے۔یا درکھیں کہ تقویٰ کی جڑیں جتنی گہری ہوں اتنا ہی زیادہ تقویٰ کا درخت نشو ونما پاتا ہے اور تقویٰ کی جڑیں گہری ہونے کا مطلب انکسار کا بڑھنا ہے۔جتنا زیادہ کسی شخص میں عارفانہ انکسار ہو گا اتنا ہی زیادہ اس کی جڑیں زمین میں گہری پیوست ہوں گی اور اتنا ہی زیادہ صحیح معنوں میں اس کا تقویٰ کا درخت نشو ونما پائے گا۔اس مضمون کو قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا: أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (ابراہیم: ۲۵) کہ وہ کلمات طیبہ جو خدا کے کلام کا مظہر ہوا کرتے ہیں ان کی مثال ایسے درختوں کی ہے جن کی جڑیں ثابت ہوں اور جن کی شاخیں آسمان سے باتیں کرنے والی ہوں۔یہاں لفظ ثابت استعمال کیا گیا۔یہ نہیں فرمایا گیا کہ جڑیں گہر میں ہو لیکن اس ایک لفظ ثابت نے دو مضامین بیان کر دیئے کیونکہ بعض درخت جن کی جڑیں گہری ہوں اور کھوکھلی ہوں یعنی اندرونی طور پر بیماریوں کی شکار بھی ہوں وہ ثابت نہیں ہو سکتے اور بعض دفعہ اپنے مادے کے مزاج کے لحاظ سے یعنی قدرت نے مادے کو جو صفت بخشی ہے اس پہلو سے بعضوں کی جڑیں ویسے ہی کمزور ہوتی ہیں۔گہری ہوتی ہیں مگر جب آندھی چلتی ہے تو وہ درخت یوں جڑوں سے ٹوٹ کے گر جاتے ہیں اور اگر گہری نہ ہوں اور مضبوط ہوں اور زمین کی سطح پر پھیلی ہوں جیسا کہ عموماً یورپین درختوں میں یہ بات پائی جاتی ہے۔تو بڑے بڑے تناور درخت بہت اچھے لہلہاتے ہوئے نشو ونما پاتے ہوئے ہر موسم میں ترقی کرتے ہوئے درخت آندھی کے مقابل پر اس