خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 558

خطبات طاہر جلد ۹ 558 خطبہ جمعہ ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء مجھے یاد ہے حضرت مصلح موعود اس معاملے میں بڑی ہی باریک اور نگران نظر رکھتے تھے۔اس لئے بعض لوگ جن کی طرف لوگوں کا رجحان ہوتا تھا اس پر وہ سخت رد عمل دکھایا کرتے تھے اور بعض لوگ جن کی طرف لوگوں کا رجحان ہوتا تھا اس پر نہ صرف یہ کہ رد عمل نہیں دکھاتے تھے بلکہ خود بھی ان کو دعاؤں کے لئے لکھتے تھے۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ، حضرت مولوی شیر علی صاحب، حضرت مولوی سرور شاہ صاحب ، اسی قسم کے کثرت سے اور بزرگ تھے ، حضرت مفتی محمد صادق احب، جن کو حضرت مصلح موعودؓ ہر موقعہ پر دعا کے لئے لکھا کرتے تھے اور محبت اور احترام سے پیش آتے تھے اور جہاں تک توفیق ملتی تھی ان کی خدمت بھی کیا کرتے تھے یعنی عام خدمتوں کے علاوہ بھی ان سے محبت اور ہدیے دینے کا تعلق بھی رکھتے تھے لیکن بعض لوگ جو نیکی کے نام پر سر اٹھاتے تھے ان پر وہ اس طرح برستے تھے جس طرح آسمان سے بجلی کڑک کے ٹوٹتی ہے اور بڑے سخت ان کے بارے میں پریشان ہو جاتے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی آنکھ اللہ کے نور سے دیکھتی تھی اور آپ جانتے تھے کہ کہاں فتنہ پیدا کرنے والی نیکی ہے جو بظاہر نیکی ہے لیکن حقیقت میں تقویٰ سے عاری ہے اور کہاں سچا تقویٰ ہے۔اس کی ایک اور پہچان بھی جو عام نظر سے بھی سامنے آجاتی ہے اور وہ یہ ہے۔کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ خدا سے تعلق رکھنے والے جو متقی ہیں تقویٰ کی تعریف ہی ہو رہی ہے کہ وہ کیا ہے؟) فرمایا منتقی وہ لوگ ہیں کہ خدا جو ان کو دیتا ہے وہ خدا کی راہ میں آگے جاری کرتے ہیں۔پس وہ بزرگ جن کا میں نے ذکر کیا جو بچے بزرگ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پروردہ تھے ان کو ایک ہاتھ سے ملتا تھا تو وہ دوسرے ہاتھ سے لوگوں پر خرچ کیا کرتے تھے۔ایک ہاتھ سے ملتا تھا تو دوسرے ہاتھ سے وہ جماعت پر خرچ کیا کرتے تھے۔اور ضرورتمندوں کی ضرورت پورا کرنے پر نگران اور مستعد رہا کرتے تھے اور یہ وہ بات تھی جو ان کو عام لوگوں سے جولوگوں کی دولتیں بٹورنے کی خاطر بزرگ بنتے ہیں ان سے ممتاز اور الگ کر دیا کرتی تھی۔یہ جو نیک بیبیوں کے اڈے بعض دفعہ بن جاتے ہیں اور غیر احمد یوں میں تو کثرت سے یہ رواج ہے ان میں بھی آپ یہ بات دیکھیں گے کہ یہ نیک بیبیاں چندوں میں پیچھے ہوں گی بلکہ شاید نہ ہی دیتی ہوں اور غریبوں پر خرچ کرنے والی نہیں ہوں گی بلکہ اپنے تقویٰ کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنا ایک بلند مقام بنا کر گدی بنانے کی کوشش کرتی ہیں اور ایسے نیک مرد بھی ہوتے ہیں یعنی بظاہر نیک مرد اور پھر