خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 552 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 552

خطبات طاہر جلد ۹ 552 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء اور یہ دعا ہمیں یہ بات سکھاتی ہے کہ دینی انتظامات میں، دینی معاملات میں ہرا میر ، ہر صاحب عمل کو اپنے ماتحتوں کے تقویٰ کا معیار بڑھانے کی فکر کرنی چاہئے ورنہ وہ دعا اثر نہیں دکھائے گی جس کے ساتھ اس دعا کی تائید میں نیک اعمال شامل نہ ہوں۔یہ وہ عمل صالح ہے جو دعا کو رفعت عطا کرتا ہے۔پس ہر دعا کیساتھ عمل صالح کا ایک مضمون بھی چسپاں ہے، اس کے ساتھ وابستہ ہے، اس کو لازم ہے اور اسی عمل صالح کو اختیار کرنا چاہئے جس کے لئے دعا کی جاری ہے۔پس تمام امراء اور تمام عہدیداران کی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ان کی اپنی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ جہاں وہ اپنے لئے متقیوں کا امام ہونے کی دعا کریں وہاں اپنے ماتحتوں کا تقویٰ کا معیار بڑھانے کی کوشش کریں اور اس پہلو سے مجھے یہ خلا محسوس ہوتا ہے کہ جماعت کے ہمارے بہت سے منتظمین بھی اس کو براہ راست اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دوا لگ الگ باتیں ہیں۔ہم ہیں انتظام کے سربراہ اور مربیان یا بعض بزرگ لوگ تقویٰ کے سربراہ ہیں اور گویا یہ دوا لگ الگ چیزیں ہیں حالانکہ جماعت احمدیہ میں جو ایک روحانی جماعت ہے حسن انتظام کو حسن تقویٰ سے الگ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔مومن کی زندگی کے وجود کا تقویٰ ایک دائمی حصہ ہے۔اس لئے یہ باطل تصور دل سے بالکل نکال دیں کہ آپ منتظم ہیں اور تقویٰ کے نگران اور لوگ ہیں۔آپ ہی منتظم ہیں اور آپ ہی تقویٰ کے نگران بھی ہیں اس لئے سب سے زیادہ آپ کی نظر اپنے ماتحت کارکنوں کے تقویٰ پر بھی ہونی چاہئے اور عام افراد جماعت کے تقویٰ پر بھی ہونی چاہئے اور ہمیشہ اس فکر میں غلطاں رہنا چاہئے کہ میرے دائرہ کار میں جو احمدی بستے ہیں خواہ کسی حیثیت سے بھی ہوں ، کسی عمر سے تعلق رکھنے والے ہوں ، ان کے تقویٰ کا کیا حال ہے ان پر نظر رکھنی ضروری ہے ان کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے ہمیشہ تجزیاتی نظر اختیار کرنی چاہئے۔لیکن تجزیاتی نظر سے مراد تخریبی ، تنقیدی نظر نہیں یا منتقمانہ نظر نہیں اس معاملے میں جماعت کو بار بار نصیحت کی ضرورت ہے۔بعض لوگ اپنی خشکی کو نیکی سمجھنے لگتے ہیں اور خشک مزاجی کی وجہ سے کیونکہ وہ بدی کرنے کے اہل ہی نہیں ہوتے ، کیونکہ مزاج ہی بڑا خشک ہوتا ہے اس میں رس ہی کوئی نہیں ہوتا ، اس سے کوئی نچوڑے گا کیا؟ نہ نیکی نچڑتی ہے نہ بدی نچڑتی ہے اور وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم تقویٰ کے بڑے اعلیٰ