خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 551
خطبات طاہر جلد ۹ 551 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء بلند مراتب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ تقویٰ کا مضمون بھی پھیلتا چلا جاتا ہے اور وسعت اختیار کرتا چلا جاتا ہے اور اس کی کوئی حد نہیں آتی۔اس پہلو سے خواہ لاکھ خطبات بھی دیئے جائیں یہ مضمون اپنی ذات میں ختم ہونے والا مضمون نہیں۔آج میں اسی پہلو سے امراء کو اور دیگر عہدیداران کو، صدران مجالس ہوں یا دیگر عہد یداران ہوں، ان کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس دعا کو جس کی طرف میں پہلے بھی متوجہ کر چکا ہوں اس کو خصوصیت کے ساتھ اپنا لا زمہ بنالیں۔اس دعا کے ساتھ چمٹ جائیں اور اس دعا کو اپنے ساتھ چمٹا لیں اور وہ یہ ہے کہ وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کہ اے خدا! ہمیں متقیوں کا امام بنا۔یہ دعا کرتے ہوئے جب وہ اس پر غور کریں گے تو اس کے نتیجے میں نئے نئے مضامین ان کو سجھائی دیں گے اور وہ مضامین ان کے کام آسان کریں گے۔خاص طور پر اس مضمون کو پیش نظر رکھیں کہ اگر کوئی امیر ہے یا صدر ہے یا جیسا کہ میں نے کہا ہے دوسرا عہد یدار ہے،اس کا کام تب اچھا ہوگا اگر وہ متقیوں کا امام بننے کی دعا بھی کرے گا اور کوشش بھی کرے گا اور اپنے ماتحتوں کے تقویٰ کا معیار بڑھانے کی کوشش کرے گا۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ منتظمین یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اگر حسن انتظام سے آراستہ ہوں یعنی ہم میں یہ صلاحیت ہو کہ ہم اچھا انتظام چلا سکیں تو یہی کافی ہے حالانکہ ہرگز یہ کافی نہیں ہے۔حسن انتظام اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے لیکن وہ مہرے جن کو اس نے چلانا ہے وہ مادہ جس سے اس نے کام لینا ہے اس کی اپنی صفات ہیں، اپنی حصلتیں ہیں جن کے اچھے ہونے کے نتیجے میں حسن انتظام بہتر پھل لائے گا اور جن کے کمزور ہونے کے نتیجے میں حسن انتظام کو بھی اسی طرح کمزور اور ناقص پھل لگیں گے۔ہماری جماعت کا کارکن وہ مادہ ہے جس کا معیار بڑھانا ضروری ہے اگر اس مادے کو تقویٰ نصیب ہو تو اس کے اندر نئی صفات ابھریں گی ، نئی خصوصیات پیدا ہوں گی اور ایک اچھا منتظم ایسے مادے سے بہت بڑے بڑے کام لے سکتا ہے۔اگر تقویٰ کا معیار گرا ہو تو یہ ایک بوسیدہ اور بریکار مادہ ہوگا جس کے نتیجے میں اچھے سے اچھا حسن انتظام بھی اس پر اچھا عمل نہیں دکھا سکتا اور اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرسکتا۔جو بوسیدہ چیز ہے اس کو کہاں تک آپ سنبھال سکتے ہیں جو شکل بھی دیں گے وہ شکل عارضی ثابت ہوگی اور رخنوں والی ہوگی۔اس لئے مٹیریل یعنی مادے کا اچھا ہونا بہت ہی ضروری ہے