خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 543 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 543

خطبات طاہر جلده 543 خطبه جمعه ۱۴ ستمبر ۱۹۹۰ء کی بات میں وزن ہوتا ہے اس کی بات میں قوت عطا کی جاتی ہے اس کی بات میں گہرا اثر رکھا جاتا ہے۔پس یہ دو باتیں جو میں نے آپ کو بتائی ہیں ان پر آپ قائم ہو جائیں اور پھر تبلیغ کریں اور درد دل سے تبلیغ کریں۔اچھے دوستوں کو تلاش کریں اور ان کے ساتھ تعلقات بڑھائیں کیونکہ تبلیغ کا ایک اور بھی بہت اہم گر ہے جسے آپ کو لازماً سیکھنا چاہئے کہ تبلیغ رستہ چلتے بیج کا چھٹا دینے کا نام نہیں ہے بلکہ بڑی گہری حکمت کے ساتھ ایسی کاشت کا نام تبلیغ ہے جس کی انسان پھر مسلسل حفاظت کرتا ہے جو اس کے اپنے دائرہ اختیار میں ہوتی ہے ورنہ بیج پھیلانا تو کوئی تبلیغ نہیں ہے۔آپ دنیا میں زرخیز سے زرخیز علاقے میں بیج پھیلاتے چلے جائیں، پیچھے پیچھے پرندے اس بیج کو چگتے چلے جائیں گے۔جانور اس کو آ کر ضائع کرتے چلے جائیں گے کبھی پانی کا فقدان ہوگا کبھی کسی اور چیز کا نقصان ہوگا اور جو بیج آپ پھیلائیں گے وہ پیچھے سے ضائع ہوتا چلا جائے گا لیکن وہ بیج کام کا بیج ہوا کرتا ہے جسے ایک انسان اپنے کھیت میں اگاتا ہے جو اس کے قبضے میں ہوتا ہے۔اس کی حفاظت کرنا جانتا ہے روز اسکی پرورش کرتا ہے اس کے ساتھ مانوس ہو جاتا ہے اس کو اپنے ساتھ مانوس کرتا ہے اور یہی وہ کچی تبلیغ ہے جو پھل دیتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب خدا تعالیٰ سے یہ عرض کی کہ : رَبِّ اَرِنی كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْلى ( البقرہ: ۲۶۱) اے خدا ! تو مجھے اس بات پر مامور تو کر چکا ہے کہ میں مردوں کو زندہ کروں۔اب تو نے ہی زندہ کرنا ہے۔گیف تُحْيِ الْمَوْتُى تو بتا تو سہی کہ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔تو اللہ تعالیٰ نے جو مثال دی اس میں نکتے کی جو بہت اہم بات بیان فرمائی گئی وہ یہ تھی کہ پرندوں کولو، چار پرندوں کو پکڑو، فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ (البقرہ:۲۶۱) بعض مفسرین بیچارے اب تک یہی سمجھتے ہیں کہ قصر کا مطلب ہے قیمہ کردو اور قیمہ کر کے چاروں طرف پہاڑیوں پر پھینک دو حالانکہ فطر کا مطلب ہے مانوس کرلو۔اگر قیمہ کرنا ہوتو اليك کا کیا مطلب؟ اپنی طرف قیمہ کر لو۔کیا ہوا؟ مانوس بنانا ہو تو اس کے ساتھ اِلَيْكَ کا صلہ لگتا ہے کہ ہاں اپنی طرف مانوس کرلو، اپنے ساتھ مانوس کرلو اس لئے اس کے سوا کوئی معنی ہو ہی نہیں سکتا۔فرمایا کہ دیکھو! جب تم پرندوں کو اپنے ساتھ مانوس کر لیتے ہو تو تمہاری آواز کا جواب دیتے ہیں۔ان