خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 532
خطبات طاہر جلد ۹ 532 خطبه جمعه ۱۴ ستمبر ۱۹۹۰ء اس لئے بڑی گہری نظر سے وہ جماعت احمدیہ کے حالات پر غور کرتے ہیں اور جتنے حج مجھے ملے ہیں ان سب کا یہ حال ہے کہ نہ صرف یہ کہ پاکستان کے حالات پر ذاتی طور پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے عقائد ، جماعت احمدیہ کے اختلافات جو دوسروں سے ہیں اور جماعت احمدیہ کی روح کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض تو اس کے نتیجے میں اتنا متاثر ہیں کہ ایک حجج نے مجھے بتایا کہ میرے لئے ایک لمبے تجربے کے بعد اب یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ میں کسی احمدی کے کیس کا انکار کرسکوں کیونکہ میں محض قانونی موشگافیاں نہیں بلکہ حقیقت کی روح سے دیکھتا ہوں اور اس کے نتیجے میں میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی جماعت من حیث الجماعت ایک مظلوم جماعت ہے اور اس کا حق ہے کہ دنیا میں جہاں چاہے جاکے آباد ہوتا کہ اس کو ضمیر کی آزادی نصیب ہو۔چنانچہ بعض حج تو جسم کی آزادی کی حد تک اپنی نظر کو محدود رکھتے ہیں اور زیادہ تر اسی جستجو میں رہتے ہیں کہ کس حد تک پناہ گزین نے عملاً جسمانی تکلیف اٹھائی لیکن جرمنی کے جوں میں یہ بات میں نے خصوصیت سے دیکھی کہ ایک نہیں دو نہیں اس سے زیادہ تعداد میں مجھ سے جو ملے ہیں انہوں نے ہمیشہ اس بات کا ذکر کیا کہ وہ صرف یہ یقین کرنا چاہتے تھے کہ پاکستان میں جماعت احمد یہ کونمیر کی آزادی ہے کہ نہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ چونکہ ہم اس بات پر مطمئن ہو چکے ہیں کہ پاکستان میں کسی احمدی کے لئے ضمیر کی آزادی نہیں رہی اس لئے ہم بڑی فراخدلی کے ساتھ آپ کے پناہ گزنیوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک افسوس ناک بات کا بھی ذکر کیا جس کا میں آپ سے بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ بعض احمدی جو ایجنٹوں کے پڑھائے لکھائے جھوٹ بول دیتے ہیں اس کا ان کی طبیعت پر بہت ہی برا اثر دیکھا۔چنانچہ ایک جج نے مجھ سے کہا کہ آپ کی جماعت سے میں بہت ہی اونچی تو قعات رکھتی ہوں (وہ حج خاتون تھیں) اور مجھے اس جماعت سے گہری محبت ہے۔صرف اس وجہ سے نہیں کہ یہ مظلوم ہے بلکہ اس کے عقائد میں توازن ہے ان کے اندر بہت سی خوبیاں پائی جاتی ہیں ، اخلاص ہے، بہت سی ایسی خوبیاں ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں لیکن جب میں یہ دیکھتی ہوں کہ کوئی احمدی اپنے ایجنٹوں کے پڑھائے میں آکر ، ان کی سکھائی پڑھائی میں آکر جھوٹ بولتا ہے تو مجھے اس کی بہت تکلیف پہنچتی ہے۔اب اس کو احمدیت کے لئے تکلیف پہنچنا یہ اس کی بہت بڑھی ہوئی شرافت کا نتیجہ ہے لیکن جتنی تکلیف اسے پہنچی اس سے بہت زیادہ تکلیف مجھے پہنچی۔