خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 529
خطبات طاہر جلد ۹ 529 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۹۰ء ضروری ہے۔ہمیں تو سچائی کے معاملے میں ساری دنیا کا راہنما بنا ہے۔ایسے اعلیٰ اور پاک نمونے ان کے سامنے پیش کرنے ہیں کہ دنیا ہم سے سچ سیکھے اور سچ کی باریک راہیں اختیار کرنا سیکھے۔ہر مقام پر سچ ہماری پناہ گاہ بنے اور کبھی بھی ہم جھوٹ کی شیطانی پناہ گاہوں کی طرف نہ دوڑیں۔یہ توحید خالص ہے جو زندگی کا پیغام ہے۔اگر آپ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو تو حید کے بغیر آپ دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے۔دنیا کی کوئی قوم بھی دنیاوی مطالب کے لئے توحید کی حقیقت کو پائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اور سچائی پر قائم ہوئے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔اس لئے یہاں کی وہ مغربی قومیں جو دنیا میں ترقی کر رہی ہیں یہ نسبتاً ایک دائرے میں بچی ہیں اور سچائی ہی کی برکت ہے جس کو میں تو حید بھی کہتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک سچ اور تو حید ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔اس لئے جو کچھ بھی انہوں نے پایا ہے یہ بھی تو حید ہی کی برکت سے پایا ہے۔اگر اپنی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی یہ تو حید کو اختیار کریں تو دنیا کے لحاظ سے بھی عظیم الشان ترقی اختیار کریں اور دین کے لحاظ سے بھی عظیم الشان ترقی اختیار کریں اس کام کے لئے خدا نے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے اس لئے آپ پر دوہرا فرض ہے کہ آپ سچائی میں نہ صرف ان قوموں کے ہم پلہ ہوں بلکہ ان سے آگے نکلیں اور سچائی کی باریک راہیں بھی ان کو دکھائیں اور تقویٰ کے اعلیٰ مقامات کی طرف بھی ان کو بلائیں۔یہ بلند اخلاقی مراتب سچائی کے سوا ممکن نہیں ہیں اس لئے ہر جگہ، ہر ماحول میں، ہر مجلس میں جھوٹ کے خلاف جہاد کریں اور سچائی کا مقام نہ بھولیں اور یہ نسخہ آزما کے دیکھیں کہ جب سارے سہارے آپ خود بالا رادہ توڑ دیتے ہیں، اس لئے کہ یہ شیطانی سہارے ہیں تو اس وقت خدا ضرور آپ کا سہارا بنے گا اور جب خدا سہارا بنتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر ظاہر ہوتا ہے اور انسان کا دل حیرت انگیز طور پر خدا کے وجود کے یقین سے بھر جاتا ہے۔یہ کوئی موروثی یقین نہیں ہوتا بلکہ خود کمایا ہوا یقین ہوتا ہے۔جرمنی سے ہی بعض جوانوں نے مجھے کئی دفعہ ایسے خط لکھے ہیں جن سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے فضل سے یہاں بھی بچ پر قائم لوگ ، خدا کے مجاہد بندے موجود ہیں جوا بتلاؤں کے وقت سچ بولتے ہیں، جو خطروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولتے ہیں۔جب اُن کے سامنے دو فیصلے ہوتے ہیں کہ یا جھوٹ کی پناہ لینی ہے یا سچ بول کر سزا پانی ہے یا اس ملک سے واپس چلے جانا ہے۔اس قسم کے بعض فیصلے جب ان کو در پیش ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے وہ سچ