خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 522
خطبات طاہر جلد ۹ 522 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۹۰ء اور دونوں جھوٹ کے سہارے لیتے ہیں۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ بیوقوف کو سچا بہانہ بنانا نہیں آتا اور چالاک آدمی نسبتاً زیادہ بہتر بہانے بنالیتا ہے لیکن دن بدن جتنی بھی جھاڑیاں اُن کی پناہ گاہیں ہیں وہ سب جھوٹ ہیں۔اگر اُن کے سامنے یہ سوال در پیش ہو کہ اگر میں پکڑا جاؤں گا تو میں کیا کروں گا ؟ اور جواب یہ ہو کہ میں سچ بولوں گا تو پھر وہ اُس گھاس کے میدان میں چھلانگ لگا کر بے فکر ہو کر وہ گھاس چرنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ جھوٹ کی جھاڑیاں اُس سے دُور ہٹ جائیں گی اور اردگرد اُسے کوئی جھاڑی دکھائی نہیں دے گی اور وہ محسوس کرے گا کہ گویا میں ننگا ہو گیا ہوں اور اگر واقعہ کوئی جرم اس سے سرزد ہو اور وہ پکڑا جائے تو پہلے نیت نہ بھی ہو تو بہت بڑا ابتلاءانسان کو پیش آتا ہے اور اس وقت وہ کہتا ہے اچھا پھر اس دفعہ میں جھوٹ بول لیتا ہوں تو جس شخص کی پناہ جھوٹ ہے اس کی ذات میں خدا کیسے داخل ہوسکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو ہمیں یہ سکھایا کہ اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ میں شیطان رجیم سے اپنے رب کی پناہ مانگتا ہوں اور شیطان رجیم جھوٹ ہے۔جھوٹ کی ایک مجسم شکل کا نام شیطان ہے تو ایک طرف تو خدا نے اُسے یہ سکھایا ہو کہ قدم قدم پر یہ دعائیں مانگو میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔دوسری طرف ہر قدم پر وہ جانتا ہو کہ خدا کی پناہ اُس کے کام نہیں آئے گی۔اس کا دل گواہی دیتا ہو کہ یہ فرضی پناہ ہے۔اصل پناہ شیطان کی پناہ ہے۔ہر طرف سے وہ جھولی کھول کر مجھے اپنی جھولی میں پناہ دینے کے لئے تیار بیٹھا ہے اور کہتا ہے اچھلو! جس طرح ماں بچے کو اُٹھانے کے لئے اپنی جھولی پھیلا دیتی ہے اس طرح وہ شیطان کی جھولی کو دیکھتا ہے اور اس میں چھلانگ لگا کر پناہ لینے کی نیت سے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے اور تیسری دُنیا ہو یا کوئی اور دُنیا جہاں بھی آپ جائیں گے وہاں آپ کو جھوٹ اور جرم کا یہی رشتہ دکھائی دے گا۔اللہ والا بننے کے لئے ضروری ہے کہ جھوٹ کی ان جھاڑیوں کا قلع قمع کیا جائے اور ہر قدم پر یہ فیصلے کئے جائیں کہ اگر مجھ سے کوئی جرم سرزد ہو تو میں نے جھوٹ کی پناہ ہرگز نہیں لینی اور اس فیصلہ کے بعد مجرم کی سزا قبول کرنے کے لئے اپنے نفس کو آمادہ کر لیتا ہے۔ایسی صورت میں بسا اوقات اللہ تعالیٰ مغفرت فرماتا ہے اور ایسا شخص ابتلاء میں ڈالا ہی نہیں جاتا اور اگر ڈالا جاتا ہے تو چونکہ خدا کی خاطر اور توحید کی خاطر وہ ایک سزا کو خوشی سے قبول کرتا ہے۔اس کے اندر غیر معمولی پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اس لئے جب تک کہ ارد گرد جھوٹ کی