خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 520 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 520

خطبات طاہر جلد ۹ 520 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۹۰ء اور رسول کی طرف ہجرت ہوا کرتی ہے اور اس ہجرت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جھوٹ کی سر زمین سے ہجرت کر کے سچائی کی زمین میں داخل ہو جائیں اور سچائی کی پناہ میں آجائیں۔یہ کام بہت مشکل اور محنت طلب ہے اور اس میں یہ کہنا کہ فلاں جماعت کا عہدیدار ہے، فلاں اس حیثیت کا آدمی ہے، فلاں چندے دیتا ہے، فلاں نمازیں پڑھتا ہے اس لئے جھوٹ نہیں بولتا ہوگا یہ بھی غلط ہے۔کیونکہ بعض برائیاں بعض نیکیوں کے ساتھ بھی پنپتی رہتی ہیں اور اگر تو بہ نہ کی جائے تو رفتہ رفتہ نیکیوں کو کھا جاتی ہیں۔اسی طرح بعض نیکیاں برائیوں کو رفتہ رفتہ زائل کرتی چلی جاتی ہیں اور یہ زندگی کی مستقل جد و جہد ہے۔اس لئے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ چونکہ فلاں شخص میں فلاں نیکی ہے اس لئے وہ جھوٹ سے پاک اور عاری ہے اور یہ کہنا بھی درست نہیں کہ چونکہ فلاں شخص جھوٹ بولتا ہے اس لئے وہ نمازیں بھی ٹھیک نہیں پڑھتا، اس کا خدمت کرنا بھی بے معنی اور لغو ہے، اس کا چندے دینا بھی بے معنی اور لغو ہے۔یہ دونوں انتہا ئیں ہیں جو غلط ہیں۔مومن کو تقویٰ کے ساتھ کام لینا چاہئے۔حقائق کے ساتھ تعلق جوڑنا چاہئے۔وہ لوگ جو یہ طعنے دیتے ہیں کہ جی ! فلاں شخص دیکھو۔جی نمازیں بظاہراتنے خشوع سے پڑھتا ہے، چندے دیتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پر جھوٹ بول دیا۔یہ بھی محض ایک گھٹیا طعنہ آمیزی ہے۔ہر چیز کے اپنے اپنے کام ہیں اور اپنے اپنے مقامات ہیں اور زندگی کو اس طرح نہیں کیا جاسکتا کہ یا کلیۂ پاک ہو یا کلیہ بد ہو۔دونوں آمیزشیں ہیں بدی کی اور حسن کی اور پاکیزگی کی یہ ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔مومن کا کام ہے کہ جد وجہد کرتا چلا جائے۔اپنی بدیوں کو کم کرتا چلا جائے اور اپنی نیکیوں کو بڑھاتا چلا جائے۔اس حقیقت پسندی کے ساتھ ہمیں اپنی اصلاح کے لئے آگے قدم بڑھانے ہیں اور اصلاح کی اس جستجو میں سب سے پہلے سچ کی جستجو ضروری ہے۔اگر برائیاں مٹانی ہیں اور رفتہ رفتہ ہر قسم کی بدیوں سے پاک ہونا ہے تو سب سے پہلا قدم جھوٹ سے پاک ہونے کا قدم ہے۔اس دفعہ جو لوگ باہر سے تشریف لائے ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے متعلق مجھے علم ہے کہ جرمنی آگئے ہیں اور انگلستان میں اپنے پیچھے اس طرح جھوٹ کی ایک لکیر چھوڑ آئے ہیں جس طرح سانپ چلتا ہے تو اپنے پیچھے رستے پر ایک لکیر چھوڑ جاتا ہے۔ان لوگوں کے نام ظاہر کرنا یہ تو ناجائز اور نا مناسب ہے اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے ہیں؟ لیکن بعض کے جانے کے بعد اُن کے