خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 512
خطبات طاہر جلد ۹ 512 خطبه جمعه ۳۱ / اگست ۱۹۹۰ء مقصود تھا وہ اس جگہ سے قریب تر ہو جہاں اس نے جان دی ہے تو اس کو نیکیوں میں شمار کر لو۔اس کے بعد آنحضرت ﷺ ہمیں بتاتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک عجیب واقعہ ہے جس کو سن کر روح پکھلتی ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو مقرر کیا اور وہ جگہ ناپ رہے تھے تو جو بدوں کی طرف کی زمین تھی وہ لمبی ہوتی چلی جارہی تھی اور اگر وہ ایک گز ناپتے تھے تو دراصل وہ ایک گز زمین نہیں ناپ رہے ہوتے تھے بلکہ تھوڑی زمین کو لمباناپ رہے تھے۔یعنی دس انچ زمین اگر وہ ناپ رہے ہیں تو وہ زمین کھیچ گئی ہے اس لئے ایک گز دس انچ میں پورا آگیا اور اگر چہ وہ فاصلہ تھوڑا تھا لیکن جب پیمائش ختم ہوئی تو وہ گزوں کے لحاظ سے بہت بڑا فاصلہ دکھائی دینے لگا اور دوسری طرف کے فرشتوں کے ساتھ خدا تعالیٰ نے یہ سلوک فرمایا کہ وہ زمین سکڑنے لگی اور زمین تو زیادہ بہی تھی مگر گز جب ناپتے تھے تو وہ تھوڑا دکھاتے تھے یعنی زمین اگر دس گز کی ہے اور وہ سکڑ کر ایک گز رہ گئی ہو تو دس گزنا پنے کی بجائے وہ گز اس کو ایک گز دکھا رہے تھے تو دونوں طرف سے خدا کی رحمت نے یہ سلوک فرمایا کہ ایک طرف اس کی بدیوں کے فاصلے زیادہ دکھائی دینے لگے۔دوسری طرف اس کی نیکیوں کی طرف کے فاصلے کم دکھائی دیئے جانے لگے اور آخر خدا نے کہا کہ دیکھو یہ تو نیکی کے شہر کی طرف آگے بڑھ گیا تھا۔اس لئے اس سے بخشش کا سلوک ہوگا۔تو نیتوں کی اصلاح اگر کر لی جائے تو صرف نیتیں کافی نہیں ہیں۔وہ خدا جو نیتوں کو قبول کرنے والا ہے وہ بہت مہربان ہے اور اس کی رحمت اور بخشش کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے بظاہر نیت کی بات ہو رہی ہے مگر حقیقت میں نیت قبول کرنے والے کی بات ہو رہی ہے۔اگر نیت میں صفائی ہوگی اور پاکیزگی ہوگی تو باوجود اس کے کہ محض نیت اس قابل نہیں ہوگی کہ بدیوں پر غالب آ سکے اور بسا اوقات یہ بھی ممکن ہے کہ زندگی کا بقیہ سفر اتنا تھوڑا رہ گیا ہو کہ بدیوں والا اس کا سفر اس پر غالب آچکا ہو۔زندگی کا اکثر حصہ ان سے بدیوں میں صرف کر دیا ہو تو نیتوں کی نیکی کے نتیجے میں اگر نیک اعمال رونما بھی ہو رہے ہوں اور وہ تعداد میں تھوڑے ہوں اور اپنی کمیت کے لحاظ سے بھی تھوڑے ہوں اور اپنی قوت کے لحاظ سے بھی تھوڑے ہوں تو پھر وہ قانون غالب آئے گا کہ اگر نیکی زیادہ ہے تو جزاء ملے گی اور بدی زیادہ ہے تو سزا ملے گی۔تو یہاں خدا کا فضل انسان کے آڑے آتا ہے۔خدا کا فضل ہے جو نیتوں کے ایسے پھل لگاتا ہے جو نیتوں کے حق سے بہت زیادہ ہو