خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 505
خطبات طاہر جلد ۹ 505 خطبه جمعه ۳۱ راگست ۱۹۹۰ء کے اس وعدے کا اطلاق ہو سکتا ہے جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو نیک اعمال کو بداعمال کے ساتھ ملا دیتے ہیں ان کا معاملہ خدا پر ہے۔چاہے تو ان سے بخشش کا سلوک فرمائے چاہے تو ان کو پکڑے تو ایسے لوگ جو ہیں ان کے لئے بھی یہی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بخشش کا ہی سلوک فرمائے اور ان کی نیتوں میں جو نیکی کا عنصر شامل تھا اسے غالب کرتا چلا جائے اور بدی کے عنصر کو مٹاتا چلا جائے۔کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے باہر جانے والے دوستوں سے مغربی تہذیب کی آزادی کے ذکر سنے ہوئے ہوتے ہیں۔انہوں نے یہ سنا ہوتا ہے کہ وہاں اس قسم کی سہولتیں مہیا ہیں کہ انسان قانون کی نظر میں مجرم بنے بغیر کئی قسم کے جرائم کا ارتکاب کر سکتا ہے۔عیاشی کے ایسے سامان موجود ہیں جن سے متعلق دنیا تعارض نہیں کرتی اور جب چاہے انسان، جس طرح بھی چاہے عیاشی کی زندگی بسر کرے۔ان کی نیتوں میں اگر یہ بات داخل ہو تو خواہ وہ للہ ہجرت کرنے والے دکھائی دیتے ہوں ایک اور قانون ضرور عمل کرے گا اور وہ قانون یہ ہے کہ پھر آنحضرت مہ نے فرمایا کہ اس کی ہجرت پھر اس طرف ہوگی جس طرف اس کی نیت تھی یعنی ہجرت کے باوجود وہ خدا کو پانے کی بجائے بد قماش لڑکیوں کو پالے گا ہجرت کے باوجود وہ خدا کو پانے کی بجائے شراب اور جوئے اور اس قسم کی بداعمالیوں کو پالے گا اور اس کا دنیا میں جو انجام ہوگا وہ ظاہر کرے گا کہ اس کی نیت کیا تھی۔پس جہاں تک مہاجرین کا تعلق ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں شخص کی نیت ی تھی اور فلاں کی ی تھی مگر عمومی نصیحت کے ذریعے ان کو متوجہ کرنا ضروری ہے کہ اگر پہلے تمہاری نیتوں میں فتور تھا بھی تو اسے خوب کھنگال کر معلوم کرو اور اپنی نیتوں کو اب بھی صاف کر لو کیونکہ جب تک عمل نیتوں سے رنگین نہیں ہو جاتے اس وقت تک تو بہ کا دروازہ کھلا ہے۔عمل جب نیتوں سے رنگین ہو جاتے ہیں تو پھر معاملہ حد اختیار سے باہر نکل جاتا ہے اس لئے ان کے یہاں کے اعمال یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ وہ کس نیت سے چلے تھے۔بہت سے ایسے مہاجرین میں نے دیکھے ہیں جو وہاں جماعتی نقطۂ نگاہ سے اچھے اعمال کرنے والے لوگ نہیں تھے۔نہ وہ چندے دیتے تھے، نہ وہ نمازوں کی طرف متوجہ تھے، نہ جماعتی خدمت میں حصہ لیا کرتے تھے لیکن یہاں آنے کے بعد دن بدن ان کے حالات سنور نے