خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 46
خطبات طاہر جلد ۹ 44 46 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء يَوْمَ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالْمُنْفِقْتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْظُرُونَا نَقْتَبِسُ مِنْ نُوْرِكُمْ قِيْلَ ارْجِعُوا وَرَاءَ كُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ کہ جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں، یہ رحم کا مطالبہ کریں گے کہ وانْظُرُونَا ہم پر شفقت کی نظر ڈالو۔نَقْتَبِس مِنْ نُّورِكُمْ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ حصہ پالیں۔قِیلَ ارْجِعُوا ان سے کہا جائے گا واپس جاؤ، وَرَاءَ كُمُ اپنے ماضی کی طرف لوٹنے کی کوشش کرو فَالْتَمِسُوا نُورًا اور وہاں نور کی تلاش کرو۔یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ واپس جاسکتے ہیں۔یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اس دنیا میں جو نور سے محروم رہ جاتا ہے پھر قیامت کے دن اسے کوئی نور نصیب نہیں ہوتا اور مومنوں کے نور سے دوسروں کے لئے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔اگر وہ اس دنیا میں مومنوں کے نور سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو قیامت کے دن ان کو اس نور سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔پس جہاں یہ مومنوں کے لئے ایک قسم کی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دنیا کے نور کے نتیجے میں ان کو آخرت میں نور عطا فرمائے گا وہاں ان کی ذمہ داری کا احساس بھی تو ہے جو انہیں دلایا جارہا ہے کہ تم اگر اس نور کو دوسروں تک نہیں پہنچاؤ گے اور وہ اندھے مر جائیں گے تو پھر قیامت کے دن ان کو کوئی نور نہیں ملے گا اور ایک رنگ میں مومن اگر حساس ہو تو وہ یہ محسوس کرے گا کہ گویا مجھ پر ذمہ داری ہو گئی۔میں نور دے سکتا تھا اور نہیں دیا۔اب یہ دو پہلو ہیں جو آپ کے سامنے روشن ہونے چاہئیں۔اول یہ کہ آپ نے نور پہنچانے کی کوشش کی اور پھر کوئی نور سے محروم رہا اس میں آپ کلیڈ بری الذمہ ہیں لیکن اگر نور پہنچانے کی کوشش نہ کی تو قیامت کے دن وہ منافقین خدا تعالیٰ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم تو مجبور تھے ہمیں تو نور دیا ہی نہیں گیا اور ان نو روالوں کو پھر وہ پہچان بھی نہیں سکتے کیونکہ جس نے نور پیش نہیں کیا ہوا سے قیامت کے دن پہچان کون سکے گا۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ مومنوں کی یہ صفات بیان فرمائی گئی ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے نور سے دوسروں کو روشنی عطا کرنے کی کوشش کرتے چلے جاتے ہیں اور اس شان کے ساتھ اور اس استقلال کے ساتھ ایسا کام کرتے ہیں کہ وہ لوگ ان کو