خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 47
خطبات طاہر جلد ۹ 47 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء پہچاننے لگتے ہیں ، جاننے لگتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو روشنیاں پھیلا رہے ہیں۔پھر اگر وہ ان روشنیوں کو رد کر دیں تو پھر قیامت کے دن ان کی ذمہ داری ان کی ذات پر ہے، مومنوں پر عائد نہیں ہوتی۔پس آپ نے اگر اپنے گھروں میں اپنے بچوں کو روشنی عطا کرنی ہے، اپنے ماحول میں اپنے دوستوں کو عطا کرنی ہے۔اپنی گلیوں ، گلیوں والوں کو ، محلے میں محلے والوں کو۔اگر شہروں کو نور سے بھرنا ہے، اگر ملکوں کو نور سے بھرنا ہے تو یہ نور وہ کافی نہیں جو تعلیم کی صورت میں موجود ہے۔یہ تعلیم کا نور آپ کے دل میں اس وقت اترے گا جب آپ کے دل سے ایک شعلہ نور پیدا ہوگا۔پھر نُورٌ عَلَى نُورٍ بن کر آپ اس دنیا کو روشن کرنے کی اہلیت حاصل کریں گے۔پس دعا کرتے رہیں اور عاجزانہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے نور کی حفاظت فرمائے۔آپ کو نور عطا کرے اور پھر اس کو روشن تر کرتا چلا جائے۔صرف یہ بھی کافی نہیں کہ آپ نور حاصل کریں۔اس کی حفاظت کا مضمون بھی قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔فرمایا ہے۔جب یہ نور خدا کے بندوں کو عطا ہوتا ہے تو لوگ اس کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِه وَلَوْكَرِهَ الكَفِرُونَ (القف:۹) کہ یہ لوگ ایسے ظالم ہیں کہ ایک طرف تو مومن چراغ لے کر نکلتے ہیں کہ ان کے اندھیروں کو روشنیوں میں تبدیل کر دیں دوسری طرف یہ پھونکیں مار مار کر ان کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہم جیسے اندھے ہو جاؤ تم بھی نوروں سے محروم رہ جاؤ۔تو عظیم جدو جہد ہے اس سلسلے میں نور کو پھیلانے کی جس کا قرآن کریم نے بیان فرمایا اور ہم پر واضح کر دیا کہ اس راہ میں یہ خطرات بھی ہوں گے کہ جن کو تم نور عطا کرنے لگو گے وہ تمہارے نور کو بجھانے کی کوشش کریں گے لیکن اگر تم دعا کرتے رہو اور خدا کی طرف متوجہ رہو اور کامل خلوص کے ساتھ اس راہ پر گامزن رہو۔تو یاد رکھو کہ خدا تم سے وعدہ کرتا ہے وَاللهُ مُتِمُّ نُورِم وہ نور جو تمہارے دلوں میں خدا تعالیٰ نے روشن فرمایا۔جو خدا کا نور ہے اس کے اتمام کا وعدہ خدا کرتا ہے۔وہ اس کی حفاظت فرمائے گا اور وہ تمہارے نور کو روشن سے روشن تر کرتا چلا جائے گا۔