خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 499 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 499

خطبات طاہر جلد ۹ 499 خطبه جمعه ۳۱ راگست ۱۹۹۰ء اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہوتا ہے ہجرت کرنے والے اپنی نیتوں کے مطابق اجر دیئے جائیں گے خطبه جمعه فرموده ۳۱ راگست ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بہت گہرے معارف اور حکمتوں پر مشتمل ہے کہ انما الأعمال بالنیات (بخاری کتاب الوحی حدیث نمبر : ۱) کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔یہ قانون جو روحانی اور طبعی قانون ہے، اس کا اطلاق انسانی قوانین پر ممکن نہیں کیونکہ یہ حکمت اور بہت گہری حکمت جو اس چھوٹے سے کلے میں بیان فرمائی گئی ہے اس کا معاملات پر اطلاق تبھی ممکن ہے جب معاملے کا فیصلہ کرنے والا عالم الغیب ہو یا ایسا طبعی قانون ہو جو ہمیشہ انصاف کے ساتھ عمل کرتا ہے۔پس اس پہلو سے دنیا کے قوانین میں اس حکمت کا کوئی بھی دخل نہیں۔چنانچہ تمام دنیا میں انسان کے بنائے ہوئے جتنے بھی قوانین ہیں ان کی رو سے اگر کوئی شخص کوئی جرم کر کے یہ ثابت کرنا چاہے کہ میری نیت نہیں تھی تو اس کے عذر کی پذیرائی نہیں ہوگی ، اس کی یہ بات سنی نہیں جائے گی کیونکہ دنیا ظاہر پر فتوی دیتی ہے اور ظاہر ہی کا فیصلہ کرتی ہے اور نیتوں کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہے ،سوائے اس کے کہ اس نیت کا کوئی ایسا اظہار لوگوں کے سامنے کیا گیا ہو جن کی گواہی قطعی ہو اور حج شک میں پڑ جائے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ شخص واقعی نیک نیت کے ساتھ کام کرنے والا ہو۔ایسی صورت میں بعض دفعہ اس کو شک کا فائدہ دے دیا جاتا ہے مگر ایسے معاملات بہت استثنائی ہیں۔روحانی قانون میں اور