خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 493 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 493

خطبات طاہر جلد ۹ 493 خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء نے ہمارے اندراتنی نفرتیں پیدا کی ہیں اور نا انصافیوں کی اتنی صدیاں ہمارے موجودہ رد عمل کے پیچھے کھڑی ہیں کہ ہم مجبور ہو کر ایک کمزور آدمی کا رد عمل دکھائیں گے جس کے ہاتھ میں جب اینٹ آتی ہے تو وہ اٹھا کر مارتا ہے پھر یہ نہیں سوچا کرتا کہ اس کے نتیجے میں اس کو کیا سزا ملے گی یا طاقتو ر اس سے کیا سلوک کریں گے۔اس صورتحال کو تقویٰ کے ساتھ اور اسلامی تعلیم کے مطابق قول سدید کے ساتھ نتھار کر اور کھول کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی بجائے ، جس میں غیر معمولی فوائد مضمر تھے ، انہوں نے پھر اسلام پر حملہ کروانے کے ان کو مواقع فراہم کئے۔پہلے کہا کہ ہمارے بدن پر حملہ کرو پھر کہا کہ آؤاب ہماری روح پر بھی حملہ کرو، اور ایسے ظالمانہ طور پر اسلامی تعلیم کو توڑ مروڑ کر پیش کیا کہ اس کے نتیجے میں دنیا کے تمام اہل دانش جانتے تھے کہ یہ مذہبی ردعمل نہیں ہے اس لئے اگر یہ مذہبی کہتے ہیں تو بہت اچھا ، ہم ان کے مذہب پر حملہ کرتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ مذہب ٹیڑھا ہے،۔ان کے دماغ ٹیڑھے نہیں ہیں۔پس وہ سرجن کو یہ بیمار سروں کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے اور جو ان کی بیماری کی وجہ سے بیمار ہوئے ، اسی مسلمان دنیا نے ان کو موقع فراہم کئے کہ ان کی بیماری کی وجہ بھی اسلام قرار دیا جائے اور غلط تشخیص دوبارہ دنیا کے سامنے پیش کی جائے اور دنیا اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے کیونکہ جو بیمار ہے اس کی بات زیادہ سنی جاتی ہے۔بیمار کہتا ہے کہ میرے سر میں درد ہے اور ساتھ بتا تا ہے کہ میں نے یہ کھایا تھا اور یہ حرکت کی تھی اس کے نتیجے میں سر میں درد ہے۔پھر ڈاکٹر اگر کچھ اور بات کہے بھی تو اس پر کسی کو اطمینان نہیں ملتا۔چنانچہ جب یہ بیمار سر دنیا کو دکھائے جاتے ہیں تو ساتھ کہتے ہیں کہ اس کی بہت اعلیٰ تشخیص خود اس بیمار نے کر دی ہے۔یہ بیمار کہتا ہے کہ میرا مذہب پاگل ہے، میرا مذ ہب مجھے نا انصافیوں پر مجبور کرتا ہے، میرا مذہب مجھے کہتا ہے کہ عورتوں اور بچوں سے ظلم کرو اور اس طرح تم اپنے بدلے اتارو اور اس طریق پر تمہیں انتقام لینے کا اسلام حق دیتا ہے۔سبو تا ثر کرو، بہوں سے شہروں کا امن اڑاؤ، جس طرح بھی پیش جاتی ہے تم اپنے دکھوں کا بدلہ لو اور تمہارے پیچھے خدا کھڑا ہے اور اسلام کھڑا ہے اور تمہیں تعلیم دیتا ہے کہ مذہب کے نام پر ایسا کرو۔بالکل غلط بات تھی ، اس میں اس کا ادنی سا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔جو باتیں میں نے بیان کی ہیں یہ ایسی باتیں ہیں جو دنیا کے سامنے کہیں بھی آپ پیش کریں دنیا تسلیم کرنے پر مجبور ہوگی کہ بیمار سر کیوں ہیں اور بیماری کی وجہ کیا ہے؟ لیکن ان ظالموں نے خود اپنے اوپر ہی حملہ نہیں کرنے دیا بلکہ اپنے مذہب کو