خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 494 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 494

خطبات طاہر جلد ۹ 494 خطبه جمعه ۲۴ راگست ۱۹۹۰ء بھی حملے کا نشانہ بنانے کے لئے سامنے پیش کر دیا۔یہ ہے خلاصہ ظلم و ستم کا جو اس وقت روا رکھا جارہا ہے۔آج سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ اسلامی لیڈرشپ ان محرکات کو، ان مواجهات کو سمجھے اور تمام تر توجہ اصل بیماری کی طرف مبذول کرے اور مبذول کروائے اور دنیا کے سامنے یہ تجزیے کھول کر رکھے کہ ہم مجبور اصدام کے مقابل پر تمہارے ساتھ شامل ہوئے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بری الذمہ ہو اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ صدام کا دور کرنایا عراق کی بربادی عالم اسلام کا علاج ہے۔یہ عالم اسلام کے لئے مزید تباہی کا موجب بنے گا اور وہ محرکات جاری رہیں گے اور وہ بیماریاں باقی رہیں گی جن کے نتیجے میں بار بار مشرق وسطی کا امن برباد ہوتا ہے اور بار بار دنیا کو ان سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔پس جہاں تک انصاف کا تعلق ہے اس طرف واپس جا کر دیکھیں تو اسرائیل نے ہرلڑائی کے بعد کچھ مسلمان علاقوں پر قبضہ کیا اور اسے دوام بخشنے میں مغربی طاقتوں نے ہمیشہ اس کا ساتھ دیا۔ایک انچ زمین بھی ایسی نہیں جسے خالی کروایا گیا ہو سوائے مصر کے اور اس وقت مصر کے سیناء کے ریگستان کو جب یہودی تسلط سے خالی کروایا گیا تو پہلے مصر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا۔اسرائیل سے ایسی صلح کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کا تخمینہ یہ تھا کہ مصر ہمیشہ کے لئے اسلامی دنیا سے کٹ جائے گا اور ان کی دشمنیوں کا نشانہ بن جائے گا اور اس بناء پر اس کی بقاء ہم پر منحصر ہوگی اور جب تک ہم اس کا سہارا بنے رہیں گے یہ زندہ رہے گا ورنہ یہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔یہ وہ تخمینے تھے جن کی بنا پر انہوں نے ریگستان کے وہ علاقے مصر کو واپس دلوا دیئے جو یہود کے تسلط میں تھے لیکن اس کے علاوہ کہیں بھی ایک انچ زمین بھی واپس نہیں کرائی گئی یعنی اسرائیل سے ان لوگوں کو زمین واپس نہیں کروائی گئی جو گر کر ذلت کی صلح پر آمادہ نہیں تھے۔Jorden کتنی دیران کا دوست رہا ہے ابھی بھی جب وہ خبروں میں اس کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو ہمارا دوست، سب سے زیادہ اس پر انحصار کیا کرتے تھے کہتے ہیں کتنے ہم پاگل تھے، کیسا بے وفا دوست نکلا؟ اور یہ نہیں دیکھتے کہ تم نے اس دوستی میں اس کو دیا کیا ہے؟ تمام عرصہ اس دوست کے وطن کا نہایت قیمتی ایک ٹکڑا اس کے دشمنوں کے قبضے میں رہا اور تم نے ہمیشہ دشمن کو تو طاقت دی اور دشمن کو اس ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے میں مددی اور اس کے باوجود کہ یہ تمہارا دوست تھا۔