خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 488

خطبات طاہر جلد ۹ 488 خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء آسکتا ہے کہ جب مغرب کی طاقتور حکومتوں کے اختیار سے باہر نکل جائے۔صدام حسین کو جو طاقت دی گئی ہے یہ بھی دراصل مغربیت کی نا انصافی کا ایک مظہر ہے اور ان کے لئے بے اصول پن کا ایک مظہر ہے۔اس سے پہلے مغرب ہی تھا جس نے خمینی ازم کی بناڈالی تھی۔فرانس وہ مغربی ملک ہے جس میں امام خمینی صاحب نے پناہ لی اور بہت لمبے عرصے تک فرانس کی حفاظت میں رہے اور فرانس کے اثر اور تائید کے نیچے وہ پراپیگنڈہ کی مہم جاری کی گئی جس نے بالآخر وہ انقلاب برپا کیا جو ابھی تک جاری ہے اور اس عرصے تک چونکہ مغرب کو یہ خطرہ تھا کہ اگر خمینی ازم او پر نہ آیا یعنی مذہبی انقلاب برپا نہ ہوا تو شاہ کی نفرت اتنی گہری ہو چکی ہے کہ لازماً اشترا کی انقلاب بر پا ہو گا۔پس خمینی ازم یا اسلام کے اس نظریے کی محبت نہیں تھی جو ایران میں پایا جاتا ہے بلکہ اس سے بڑے دشمن کا خوف تھا جس نے ان کو مجبور کیا کہ وہ ثمینی ازم کی پرورش کریں اور جب وہ طاقت پا گیا تو کیونکہ وہ مذہبی لوگ تھے اور وہ جانتے تھے کہ مذہبی جذبات کے نتیجے میں ہم ابھرے ہیں ، اس لئے لازماً ان کے مفاد میں یہ بات تھی کہ مذہبی جذبات کو مشتعل رکھنے کے لئے ایک نفرت کے بدلے دوسری نفرت کی طرف رخ پھیرا جائے۔پہلا انقلاب بھی نفرت کی بنا پر تھا اور وہ نفرت شاہ ایران اور اس کے پس منظر میں اس کے طاقتوار حلیف اور سر پرست امریکہ کی نفرت تھی۔چنانچہ یہی نفرت انہوں نے مذہبی فوائد حاصل کرنے کے لئے استعمال کی اور امریکہ کو شیطان اعظم کے طور پر پیش کیا اور ہر طرح سے قوم کے ان مذہبی جذبات کو زندہ رکھا جو نفرت سے تعلق رکھتے ہیں اور اس بنا پر اس کے ردعمل میں خمینی ازم کو تقویت ملنی شروع ہوئی۔پس پہلے بھی اس علاقے میں جو بدامنی ہوئی۔جو خوفناک جنگیں لڑی گئیں یا فسادات بر پا ہوئے یا قتل و غارت ہوئی یا نا انصافیاں ہوئیں ان کی بھی بنیادی ذمہ داری مغرب پر عائد ہوتی ہے اور بنیادی اس لئے کہ شاہ کے مظالم میں بھی مغرب ہی کی سر پرستی شامل تھی اور ذمہ داری تھی۔یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ جسے آج دنیا میں تجسس کے نظام پر اتنا عبور حاصل ہو چکا ہے کہ دور دور کے ایسے واقعات جن کے متعلق اس ملک کے رہنے والے بھی ابھی شعور نہیں پاتے ابھی احساس ان کے اندر بیدار نہیں ہوتا ، ان کی انٹیلی جینس کی رپورٹیں ان کو بھی ان سے باخبر کر دیتی ہیں۔چنانچہ یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے ملک میں جو کئی انقلابات ہوئے ان میں امریکہ سے یہ شکوہ بھی کیا گیا کہ ہمیں خبر نہیں دی۔