خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 482

خطبات طاہر جلد ۹ 482 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء ٹھو کر کھا کر ایک ایسی غار اور ایسی تباہی کے گڑھے میں بھی گر سکتے ہیں جہاں سے پھر واپسی ممکن نہیں رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی میں جماعت کو تلقین کرتا ہوں کہ وہ بہت ہی سنجیدگی اور درددل کے ساتھ دعائیں کریں۔ مسلمان ممالک ہم سے جو بھی زیادتیاں کرتے ہیں یا کرتے رہے ہیں یا آئندہ کریں کریں۔مسلمان گے یہ ان کا کام ہے کہ وہ خدا کو خود جواب دیں گے مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ہم اسلام کے وفادار ہیں اور اسلامی قدروں کے وفادار ہیں ہمیں اس بات سے کوئی خوف نہیں کہ اسلامی نقطۂ نگاہ سے کسی مسلمان ملک کی غلطی کی نشاندہی کر کے اُس سے عاجزانہ درخواست کریں کہ اپنی اصلاح کرو اور اُس کے نتیجہ میں خواہ وہ ہمارا دشمن ہو جائے یا ہم سے بعد ازاں انتقامی کاروائیوں کی سوچے۔ ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ہمارا یہ طرز عمل خالصہ اللہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آج اسلام کی روح قرآن اور سنت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم میں ہے۔ اگر قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے محبت ہے تو لازماً اس روح کی ہمیں حفاظت کرنی ہوگی اور اس روح کی حفاظت کے لئے تمام دنیا کے احمدی ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ حق بات کہنے سے وہ باز نہیں آئیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ان کو حق بات سے باز نہیں رکھ سکتی اور ایسی حق بات جو سراسر کسی کے فائدہ میں ہو۔ اگر اس سے کوئی ناراض ہوتا ہو پھر ہماری پناہ ہمارے خدا میں ہے ہمارا تو کل ہمارے مولیٰ پر ہے اور ہمیں دینا کی سیاستوں سے کوئی خوف نہیں ۔ اس ضمن میں میں آپ کو ایک خوشخبری بھی دینی چاہتا ہوں کہ جو نصیحت میں نے کی ہے یہ نصیحت حقیقت میں آج میرے مقدر میں تھی کہ میں ضرور کروں اور خدا نے اس کا آج سے بہت پہلے فیصلہ کر لیا تھا چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حمامۃ البشری میں لکھتے ہیں: وإن ربي قد بشرني في العرب، وألهمنى أن أمونهم وأريهم طريقهم وأصلح شؤونهم، وستجدوني في هذا الأمر إن شاء الله من الفائزين۔ (حمامة البشری روحانی خزائن صفحہ ۱۸۲۰) یعنی میرے رب نے عرب کی نسبت مجھے بشارت دی ہے اور الہام کیا ہے کہ میں ان کی خبر گیری کروں اور ٹھیک راہ بتاؤں اور ان کا حال درست کروں اور انشاء اللہ آپ مجھے اس معاملہ میں