خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 481
خطبات طاہر جلد ۹ 481 خطبہ جمعہ ۷ اراگست ۱۹۹۰ء پر ان کو انحصار کرنا پڑے گا۔اتنے خوفناک بادل اس وقت گرج رہے ہیں اور ایسی خوفناک بجلیاں چمک رہی ہیں کہ اگر ان لوگوں کو نظر نہیں آرہیں تو میں حیران ہوں کہ کیوں ان کو دکھائی نہیں دیتیں، نہ ان کو ان کا شور سنائی دے رہا ہے ، نہ ان کو خطرات دکھائی دے رہے ہیں اور جاہلوں کی طرح دوحصوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوئے ہوئے ہیں۔پس ضروری ہے کہ عراق یہ پیغام دے اور بار بار یہ پیغام ریڈیو ٹیلی ویژن کے اوپر نشریات کے ذریعہ تمام عالم اسلام میں پہنچایا جائے کہ ہم واپس ہونا چاہتے ہیں۔ہم اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے عالم اسلام کی عدالت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں لیکن اس میں غیروں کو شامل نہ کرو۔یہ ایک ایسی اپیل ہے جس کے نتیجے میں تمام مسلمان رائے عامہ اتنی شدت کے ساتھ عراق کے حق میں اُٹھے گی کہ یہ حکومتیں جو ارادہ بدنیتوں کے ساتھ بھی غیروں کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر مجبور ہیں وہ بھی مجبور ہو جائیں گی کہ اس اپیل کا صحیح جواب دیں اور اگر نہیں دیں گی تو پھر اگر یہ خدا کی خاطر کیا جائے اور خدا کی تعلیم کے پیش نظر اسلامی تعلیم کی طرف لوٹا جائے تو اللہ تعالیٰ خود ضامن ہو گا اور یقینا اللہ تعالیٰ عراق کی ان خطرات سے حفاظت فرمائے گا جو خطرات اس وقت عراق کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ہماری تو ایک درویشانہ اپیل ہے، ایک غریبانہ نصیحت ہے اگر کوئی دل اسے سنے اور سمجھے اور قبول کرے تو اس کا اس میں فائدہ ہے کیونکہ یہ قرآنی تعلیم ہے جو میں پیش کر رہا ہوں اور اگر تکبر اور رعونت کی راہ سے ہماری اس نصیحت کو رڈ کر دیا گیا تو میں آج آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ اتنے بڑے خطرات عالم اسلام کو در پیش ہونے والے ہیں کہ پھر مدتوں تک سارا عالم اسلام نوحہ کناں رہے گا اور روتا رہے گا اور دیواروں سے سر ٹکراتا رہے گا اور کوئی چارہ نہیں ہوگا، کوئی پیش نہیں جائے گی کہ ان کھوئی ہوئی طاقتوں اور وقار کو حاصل کر لیں جو اس وقت عالم اسلام کا دنیا میں بن رہا ہے اور بن سکتا ہے۔عملاً اس وقت مسلمان ممالک ایک ایسی منزل پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے اگر خاموشی اور حکمت کے ساتھ اور فساد مچائے بغیر وہ قدم آگے بڑھائیں تو اگلے دس یا پندرہ سال کے اندر عالم اسلام اتنی بڑی طاقت بن سکتا ہے کہ غیر اس کو ٹیڑھی نظر سے نہیں دیکھ سکیں گے اور چاہیں بھی تو ان کی پیش نہیں جائے گی اور اگر آج ٹھوکر کھائی ، آج غلطی کی تو ایک ایسی خطرناک منزل ہے کہ یہاں سے پھر