خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد ۹ 480 خطبه جمعه ۷ ار اگست ۱۹۹۰ء ہے۔جہاں تک عراق کا تعلق ہے ان کے لئے سب سے پہلی بات تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی اخلاق کو مجروح نہ کریں اور زیادہ دنیا میں اسلام کو تضحیک کا نشانہ نہ بنائیں۔وہ غیر ملکی جو اس وقت ان کی پناہ میں ہیں خواہ ان کا تعلق امریکہ سے ہو یا انگلستان سے ہو یا پاکستان سے ہواُن کو کھلی آزادی دیں کہ جہاں چاہیں جائیں ہمارا تم پر کوئی حق نہیں ہے۔ہماری ان ملکوں سے اگر لڑائیاں ہیں تو ہم اُس سے نپٹیں گے یا اپنے معاملات کو طے کریں گے مگر تم اپنی ذات میں معصوم ہو اور ہماری امانت ہو اور امر واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کی رُو سے ہر غیر ملکی اس ملک میں امانت ہوا کرتا ہے جس میں وہ کسی وجہ سے جاتا ہے۔خواہ اس ملک کی اس غیر ملکی کے ملک سے لڑائی بھی چھڑ جائے تب بھی وہ امانت رہتا ہے۔پس اس امانت میں خیانت کا نہایت ہولناک نتیجہ نکلے گا ان کی انتقام کی آگ جو پہلے ہی بھڑک رہی ہے وہ اتنی شدت اختیار کر جائے گی کہ وہ لکھو کھبا معصوم مسلمانوں کو بھسم کر کے رکھ دے گی۔حکومت کے سر براہ اور اس سے تعلق رکھنے والے تو چند لوگ ہیں جو مارے جائیں گے۔وہ مسلمان معصوم عوام مارے جائیں گے، جنگ کے ایندھن بھی وہی بنیں گے اور جنگ کے بعد کے انتظامات کا نشانہ بھی انہیں کو بنایا جائے گا اس لئے سوائے اس کے کہ عراق کی حکومت تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اسلامی تعلیم کی طرف لوٹے اس کے لئے امن کی کوئی راہ کھل نہیں سکتی۔یہ قدم اُٹھائے اور دوسرے عالم اسلام کو یہ پیغام دے کہ میں پوری طرح تیار ہوں تم جو فیصلہ کرو میں اُس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں اور ہر گارنٹی دیتا ہوں کہ کویت سے میں اپنی فوجوں کو واپس بلاؤں گا۔امن بحال ہو گا لیکن شرط یہ ہے کہ فیصلہ عالم اسلام کرے اور غیروں کو اُس میں شامل نہ کیا جائے۔اگر یہ تحریک زور کے ساتھ چلائی جائے اور عالم اسلام کے ساتھ جس طرح ایران سے صلح کرتے وقت نہایت لمبی جنگ کے اور خونریزی کے بعد جس میں Millions ہلاک ہوئے یا زخمی ہوئے جو علاقہ چھینا تھا وہ واپس کرنا پڑا۔اگر یہ ہو سکتا ہے تو خونریزی سے پہلے کیوں ایسا اقدام نہیں ہوسکتا اس لئے دوسرا قدم عراق کے لئے ضروری ہے کہ کویت سے اپنا ہاتھ اُٹھالے اور عالم اسلام کو یقین دلائے کہ جس طرح میں نے ایران سے صلح کی ہے اسلام دشمن طاقتوں سے نبرد آزما ہونے کی خاطر ان کے ظلم سے بچنے کے لئے میں تم سب سے صلح کرنی چاہتا ہوں اور یہ ظلم صرف ہم پر نہیں ہوگا بلکہ سارے عالم اسلام پر ہوگا۔اسلام کی طاقت بیسیوں سال تک بالکل پچلی جائے گی اور اسلامی مملکتیں پارہ پارہ ہو جائیں گی اور کاملۂ غیروں