خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 43
خطبات طاہر جلد ۹ ہمیشہ یا درکھیں۔43 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء قرآن کریم سے بالکل واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جب تک اندرونی نور نصیب نہ ہو بیرونی نور اترتا نہیں۔روشنی کو ایک روشن جگہ کی ضرورت ہے جہاں وہ نازل ہوتی ہے۔وہ ایک اشتراک ،ایک اتحاد ہے جس کے نتیجے میں ایک روشنی دوسرے کی طرف کشش کرتی ہے۔پس اندرونی نور کے حصول کے لئے سب سے پہلی تو کوشش ہے احساس ہے، یہ شعور ہے کہ مجھے اپنے نفس کے نور کو زندہ رکھنا ہے اس لئے اپنے اندر ان اچھی چیزوں کو تلاش کریں جو خدا کے نور کی یاد دلاتی ہیں۔اپنے پاکیزہ جذبات کو ابھاریں اپنی نیکیوں کو ٹولیں اور انہیں زندہ کریں اور ان کوصاف کریں، ان کو مانجیں، ان کو روشن کرنے کی کوشش کریں۔یہی وہ طریق ہے جس کے نتیجے میں آپ کے دل میں دبا ہوا شعلہ نور بھڑک اٹھے گا۔جو اس وقت چنگاریوں کی صورت میں، چھوٹے چھوٹے دہکتے ہوئے کوئلوں کی صورت میں ہوگا۔لیکن جب آپ یہ کوشش کریں گے اور اس پر پھونکیں ماریں گے تو انشاء اللہ وہ ایک روشن آگ میں تبدیل ہو جائے گا۔اور اس کے لئے ایک لمبی جدوجہد کی ضرورت ہے۔یہ مضمون چونکہ بہت گہرا ہے اور تصوف کا رنگ اختیار کر جاتا ہے اور چونکہ ہم میں سے بھاری اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو تصوف کے باریک نکتوں کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔اگر وہ سنیں اور لطف محسوس کریں تو اس سے زیادہ آگے نہیں بڑھتے اور اسی لطف کو اپنا مقصد بنا کر خوش ہوکر پھر اس سے آگے گزر جاتے ہیں۔اس لئے میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ بات سمجھا کر پھر وہ آسان طریق بتاؤں جس کے ذریعے محض تصوف کا ایک نکتہ نہ رہے بلکہ ایک ایسی ٹھوس حقیقی تعلیم بن جائے جس کو ہم میں سے ہر ایک اختیار کرنے کا اہل ہو جائے۔میں نے جو یہ تحریک کی تھی کہ نمازوں پر زور دیں اور قرآن کریم کی تلاوت پر زور دیں۔اس میں بڑا مقصد یہ تھا کہ اس طرح آپ کو اپنے نفس کے نور کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔وہ لوگ جو عبادت پر قائم نہیں ہوتے ان کا نور بجھتا رہتا ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کبھی کوئی انکار ممکن نہیں۔عبادت سے غافل لوگ نسبتا روز بروز ٹھنڈے ہونے لگ جاتے ہیں۔عبادت کو جب اختیار کرتے ہیں تو ایک لمبا عرصہ ایسی کیفیت کا ان پر گزرتا ہے کہ وہ عبادت کرنے کے باوجود کوئی گرمی محسوس نہیں کرتے اور بے چین ہوتے ہیں کہ پھر اس عبادت کا فائدہ کیا؟ ہمیں تو کوئی گرمی نہیں