خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد ۹ 44 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء مل رہی۔وہ اس نکتہ کو بھول جاتے ہیں کہ ان کے دل کے شعلے یا دل کے دہکتے ہوئے کو کلے رفتہ رفتہ اتنی ڈھیروں راکھ کے تلے دب چکے ہیں اب آسانی کے ساتھ وہ آگ بھڑک نہیں سکتی۔اس پر محنت کرنی پڑے گی۔پس اسی لئے میں نے آپ کو حقے والوں کی مثال بتائی ہے۔وہ جب طلب محسوس کرتے ہیں تو خواہ ان کو وہ چنگاری ملے یا نہ ملے۔وہ ٹولتے رہتے ہیں، دیکھتے رہتے ہیں، بے چین ہوتے چلے جاتے ہیں۔ایک معمولی سی چنگاری بھی ملے تو اس کو وہ سنبھال لیتے ہیں بڑی احتیاط سے کاغذ پر اٹھاتے ہیں پہلے ہلکی پھونکیں مارتے ہیں پھر زیادہ پھونکیں پھر جب وہ روشن ہو جاتی ہے تو ان کے چہرے بھی روشن ہو جاتے ہیں کہ اب ہمیں ہماری طلب کی پیاس بجھانے کا موقعہ مل جائے گا۔تو جو نماز پڑھنے والے ہیں ، مجھے خیال آیا کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ایک بے کار کوشش کر رہے ہیں۔گرمی کا فقدان یہ بتارہا ہے کہ ایک لمبا عرصہ یا تو انہوں نے عبادت نہیں کی یا عبادت ایک سرسری طور پر کرتے رہے ہیں اور اس سے استفادہ نہیں کر سکے لیکن مایوسی کی نہ ضرورت ہے نہ مایوسی کا حق ہے نہ مومن کو مایوسی کی اجازت ہے اور مایوس ہونے والوں کو پھر کچھ نصیب نہیں ہوا کرتا۔پس اپنی عبادتوں کو تیز کریں اپنی جستجو کو بڑھائیں اور ہر کونے کھدرے پر اپنے نفس کے اندر نظر ڈالیں اور دیکھیں وہاں کون سی ایسی نیکی کی روشنی ہے جس کے حوالے سے خدا سے تعلق پیدا کریں اس کے بغیر نمازوں میں زندگی پیدا نہیں ہوسکتی۔دو قسم کے حوالے ہیں جن سے نمازوں میں جان پڑتی ہے۔ایک وہ حوالہ جو راکھ کا حوالہ ہے یعنی آپ تلاش کر رہے ہیں اور روشنی نہیں مل رہی اور آپ بے قرار ہو کر خدا سے کہتے ہیں کہ میرے پاس تو صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے مجھے کوئی روشنی دکھائی نہیں دیتی اس لئے اے خدا ! تو میری مدد کو آ! اور اس راکھ میں سے شعلہ نور پیدا کر دے۔پس مایوسی کی بجائے اس عدم حصول کو مزید طلب میں تبدیل کر دیں بے چینی اور بے قراری کے ساتھ دعائیں کرنے لگ جائیں کہ اے خدا! تو میری مدد کو آ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز کے قیام کے سلسلے میں یہی مضمون بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ نمازوں کو زندہ کرنا ہے تو خدا سے مانگو اور بے قراری سے یہ عرض کرو کہ خدایا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔میری نمازیں خالی پڑی ہیں تو آ اور ان نمازوں کو زندہ کر دے، تو اپنے نور سے ان نمازوں کو روشن فرمادے، اپنی محبت کی گرمی سے انہیں توانائی بخش۔