خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 468

خطبات طاہر جلد ۹ 468 خطبه جمعه ۷ ار اگست ۱۹۹۰ء میں ظاہر ہوا ہے اس کے نتیجے میں عراق کے صدر صدام حسین صاحب نے امریکہ کو یہ کہلا کے بھجوایا کہ اگر تم واقعۂ انصاف چاہتے ہو تو پھر اس سارے علاقے میں انصاف برتا جائے اور ہم تیار ہیں کہ ہم اپنی چھوٹی برادر ریاست کی حکومت کو پہلے کی طرح بحال کرتے ہیں جو خاندان اس ریاست پر فائز تھا اُس کے سپر د دوبارہ اس ملک کی باگ ڈور کر دیتے ہیں اور پہلے کی طرح تمام حالات بحال کر دیئے جائیں گے۔اس علاقے میں اور بھی اس قسم کی باتیں ہیں اور بھی اسی قسم کے ناجائز قبضے ہیں جو تمہارے اتفاق کے ساتھ یا تمہارے اتحاد اور تمہاری سر پرستی کے ساتھ ہوئے ہیں تم اُن کو بھی اس ناجائز تسلط سے آزاد کراؤ۔مثلاً اُردن کے مغربی ساحل پر یہود کا جو قبضہ ہے جسے دن بدن وہ زیادہ مستحکم کرتے چلے جارہے ہیں اور اب روسی مہاجرین کو وہاں آباد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے پر بھی غیروں کا قبضہ ہے بلکہ ایسے غیروں کا قبضہ ہے جو ہم مذہب بھی نہیں۔ایسے غیروں کا قبضہ ہے جن سے عرب کو شدید دشمنی ہے اور اس قبضے کو وہ مستقل صورت دیتے چلے جارہے ہیں اور تمہارے مغرب کے اخلاق نے اس ضمن میں کوئی رد عمل نہیں دکھایا۔مغرب کے انصاف کے تصور کے سر پر جوں تک نہیں رینگی اس لئے اُس کو بھی شامل کرو اور پھر شام (Syria) ایک اسلامی ملک ہے اُس نے لبنان میں اپنی فوجیں بھیجیں ، وہاں تسلط کیا۔بار بار جب چاہے وہاں فوجیں بھجواتا ہے اور جو چاہے وہاں کرتا ہے اُس کو بھی باز رکھا جائے اور اس کی فوجوں کو واپسی کے لئے مجبور کیا جائے۔اس قسم کے یہ واقعات جو اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ہیں اُن کو ساتھ ملا کر غور ہونا چاہئے۔جہاں تک صدام حسین صاحب کی اس بات کا تعلق ہے، نہایت معقول ہے اور اگر انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر بات کرنی ہے تو پھر خصوصیت کے ساتھ اس علاقے میں رونما ہونے والے سارے واقعات کو یکجائی صورت میں دیکھنا ہوگا۔اسی تعلق میں کچھ اور باتیں بھی ہیں۔صدام حسین صاحب نے اگر انصاف اور تقویٰ کی نظر سے دیکھا جائے تو کویت پر جو حملہ کیا ہے اس کی کوئی جائز وجہ نہیں ہے لیکن جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اُس سے کم جائز وجہ یہودیوں کے پاس ہے کہ وہ اُردن کے مغربی ساحل پر قبضہ مستقل بنالیں اور اس علاقے کو ہمیشہ کے لئے ہتھیا لیں لیکن اس کے علاوہ بھی بعض مظالم اُن کی طرف منسوب ہوئے۔مثلاً مغربی پریس نے یہ بات بہت ہی بڑھا چڑھا کر پیش کی کہ ایک انگریز کو نکلنے کی کوشش میں سرحد پار