خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 467
خطبات طاہر جلد ۹ 467 خطبه جمعه ۷ ار اگست ۱۹۹۰ء ساتھ اُن کے اندر ہیجان پیدا ہوا ہے کہ اس زمانے کی تاریخ میں اس کی کوئی اور مثال دکھائی نہیں دیتی۔یہ جو عرصہ اب تک گزر چکا ہے اس کے دیگر حالات پر تو میں مزید روشنی نہیں ڈالنی چاہتا جو اخبار بین لوگ ہیں وہ جانتے ہیں کیا ہو رہا ہے مگر محض اس حوالے سے کہ اسلام کے تقاضے یا اسلامی انصاف کے تقاضوں کا کہاں تک خیال رکھا جا رہا ہے یا کہاں تک موجودہ سیاست ان سے عاری ہے، اس پہلو سے میں چند باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پوری طرح سے بغداد کی حکومت کو غیر مو ٹر کرنے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے اقدامات شروع کئے تو دن بدن یہ محسوس ہونے لگا کہ یہ عظیم اسلامی مملکت ایسے خطرناک حالات سے دو چار ہونے والی ہے کہ جس سے نبرد آزما ہونا اس کے بس میں نہیں رہے گا۔اس وجہ سے مجھے بھی لازما غیر معمولی طور پر تشویش بڑھتی رہی اور میں بڑی گہری نظر سے جائزہ لیتا رہا کہ کس قسم کی گفت و شنید چل رہی ہے اور کیا حل پیش کئے جارہے ہیں۔حال ہی میں جب شاہ حسین جو شرق اُردن کے بادشاہ ہیں انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تو پہلے تو یہ خیال تھا کہ کوئی خط لے کر گئے ہیں۔بعد میں پتا لگا کہ خط قطا تو کوئی نہیں ویسے ہی وہ کچھ پیغامات لے کر، کچھ تجاویز لے کر گئے ہیں۔اس ضمن میں جو ٹیلی ویژن اور ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے امریکہ کے صدر نے اور عراق کے صدر صدام حسین صاحب نے ایک دوسرے کے لئے زبان استعمال کی یا ایک دوسرے پر الزامات لگائے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات کتنے ہیجان آمیز ہیں اور کس حد تک دنیا کی عظیم مملکتوں کے سربراہ بھی عام وقار سے اتر کر گھٹیا باتوں پر آ جاتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے اُن کے بیانات سُن کر کس طرح ایک دوسرے کے اوپر غلیظ زبان استعمال کی جارہی ہے۔جھوٹا ، گندے کر دار والا ، دھوکے باز، اس قسم کے الفاظ اور واقعہ اس کے پیچھے یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی ریاست پر جو ایک مسلمان ریاست تھی ، ایک بڑی مسلمان ریاست نے قبضہ کیا ہے۔دنیا میں دوسری جگہ اتنے بے شمار ایسے واقعات اس سے بہت زیادہ خوفناک صورت میں ظاہر ہوئے ہیں اور ہوتے چلے جارہے ہیں کہ اُن کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو یہ واقعہ اس کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا لیکن لازماً اس کے پیچھے بہت سے محرکات ہیں جن کے نتیجے میں اس کو اتنا غیر معمولی طور پر اُچھالا گیا۔بہر حال قبضہ تو ہو چکا اس کے بعد اس قبضے کو ہضم کرنے کا معاملہ تھا اور جتنا شدید رد عمل دنیا