خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 466 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 466

خطبات طاہر جلد ۹ 466 خطبہ جمعہ ۷ اسراگست ۱۹۹۰ء کا تجزیہ آپ کے سامنے رکھوں گا اُس سے یہ بات کھل کر واضح ہو جائے گی کہ آج اگر حقیقت میں اسلام کا درد کسی جماعت کو دُنیا میں ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی ہے۔آج کے زمانے کی سیاست گندی ہو چکی ہے۔انصاف اور تقویٰ سے عاری ہے۔وہ مسلمان ریاستیں جو اسلام کے نام پر اپنی برتری کا دعوی کرتی ہیں اُن کی وفا بھی آج اسلامی اخلاق سے نہیں اور اسلام کے بلند و بالا انصاف کے اصولوں سے نہیں بلکہ اپنی اغراض کے ساتھ ہے۔اسی وجہ سے عالم اسلام کے طرز عمل میں آپ کو تضاد دکھائی دے گا اور سوائے جماعت احمدیہ کے جتنے بھی دنیا کے فرقے ہیں آج وہ کسی نہ کسی اسلامی ریاست کے ساتھ دھڑے بنا چکے ہیں اور کسی نہ کسی ایک کو اپنی تائید کے لئے اختیار کر چکے ہیں حالانکہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اسلامی اقدار سے وفا کی جائے۔اگر اسلام سے سچی محبت ہو تو محض ان تقاضوں سے وفا کی جائے جو اسلام کے تقاضے ہیں جو قرآن کے تقاضے ہیں، جو سنتِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے تقاضے ہیں اور ان تقاضوں کی روشنی میں جب ہم موجودہ سیاست پر غور کرتے ہیں تو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق پر نہ مسلمانوں کی سیاست کی بنیاد دکھائی دیتی ہے نہ غیروں کی سیاست کی۔غیر قو میں انصاف کے نام پر بڑے بڑے دعاوی کر رہی ہیں۔گویا وہی ہیں جو دنیا میں انصاف کو قائم رکھنے پر مامور کی گئی ہیں اور اُن کے بغیر اُن کی طاقت کے بغیر انصاف دنیا سے مٹ جائے گا اور مسلمان ریاستیں اسلام کے نام پر بڑے بڑے دعاوی کر رہی ہیں مگر جب آپ تفصیل سے دیکھیں تو انصاف کا یعنی اُس انصاف کا جو قرآن کریم پیش کرتا ہے ایک طرف بھی فقدان ہے اور دوسری طرف بھی فقدان ہے۔اب جو صورت حال اس وقت ظاہر ہوئی ہے، میں اب خاص طور پر اُس کے حوالے سے بات کرتا ہوں۔عراق نے کسی شکوے کے نتیجے میں ایک چھوٹی سی ملحقہ ریاست پر حملہ کر دیا اور اس حملے کے نتیجے میں جو مسلمان ریاست پر حملہ تھا آنا فانا پیشتر اس سے کہ دنیا با خبر ہوتی اس پر مکمل قبضہ کر لیا اور اس کے نتیجے میں اچانک تمام دنیا میں ایک ہیجان بر پا ہوا اور وہ لوگ جو اسی قسم کے دوسرے واقعات پر نہ تکلیف محسوس کیا کرتے تھے، نہ کسی بہیجان میں مبتلا ہوتے تھے، نہ غیر معمولی مدد کے لئے دوڑے چلے آتے تھے ، کویت کے لئے اُن کی ہمدردیاں اس زور سے چپکی ہیں اور اس شدت کے