خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 42

خطبات طاہر جلد ۹ 42 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنے دل میں اس نور کو ٹولے اور محسوس کرے اور اگر اس کو نور کی شکل میں وہ شعلہ دکھائی نہیں دیتا تو جس طرح آگ کا ایک طلب گا ربعض دفعہ راکھ کو ٹولتا ہے اور ٹول کر اس کے اندر سے وہ چھوٹا سا دہکتا ہوا کوئلہ نکالتا ہے جس کو پھونکیں مارتا ہے تو پھر وہ نور میں تبدیل ہو جاتا ہے ، ایک آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ہم بچپن میں جب شکار پہ جایا کرتے تھے تو دیہات میں ٹھہرتے تھے وہاں ہم نے یہ نظارہ کئی دفعہ دیکھا کہ زمیندار حقہ کے شوقین صبح کے وقت جب ہم اٹھ رہے ہوتے تھے۔وہ اس شعلے کی تلاش میں چولہوں کے اندر وہ جو راکھ پڑی ہوتی ہے اس کو ٹول ٹول کے اندر سے پھر وہ چھوٹا سا ایک چنگارا نکالا کرتے تھے اور اس کو کاغذ پر رکھ کر پھونکیں مار کر اس کو آگ میں تبدیل کیا کرتے تھے۔پس تمباکو کا ایک نشئی ایک ظاہری شعلے کو بھڑ کانے کیلئے اگر اتنی محنت کرتا ہے ایک ظاہری شعلے کو بھڑ کانے کے لئے تو وہ لوگ جونور کے علمبر دار بنا کر دنیا کے لئے نکالے گئے ہیں وہ جن کے سپرداند ھیروں کو روشنی میں تبدیل کرنا ہے وہ کیوں ایسی محنت نہ کریں۔اس سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔یہ یقینی امر ہے کہ ہر انسان کے اندر شعلہ نور موجود ضرور رہتا ہے۔یا یوں کہنا چاہئے کہ ہر انسان اس پہلو سے خدا تعالیٰ کے ایک عظیم انصاف کا مظہر ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں پیدائشی اندھا تھا اور مجھے یہ نور کبھی نصیب ہی نہیں ہوا۔نور ہر ایک کو نصیب ہوتا ہے وہ اس کی تلاش نہ کرے اسے نکال کر ابھارے اور اجالے نہیں تو رفتہ رفتہ پھر وہ راکھ میں دبا ہوا شعلہ بھی مرجایا کرتا ہے۔بعض لوگ ایسے بھی دیکھے ، بیچارے وہ ٹھنڈی راکھ کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔راکھ اٹھتی ہے ان کے سانسوں کے اندر ان کے Lungs میں داخل ہوتی ہے ان کا چہرہ خراب کرتی ہے ٹولتے رہتے ہیں کچھ نہیں نکلتا۔تو ایسے بھی بد نصیب ہوتے ہیں جو اگر اپنی راکھ کو چھیڑریں نہیں اور اسی طرح پڑا رہنے دیں تو رفتہ رفتہ ان کا نوران کے سینوں میں مرجاتا ہے اور ہمیشہ کے لئے بجھ جاتا ہے۔ایسے بدنصیبوں کا بھی قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے۔لیکن آپ نے تو دنیا کو روشن کرنا ہے۔آپ نے تو اپنی نئی نسلوں کی تربیت کرنی ہے اور یہ تربیت احمدیت کی تعلیم کے ذریعے آپ نہیں کر سکتے جب تک کہ اس تعلیم کے نور کو پہلے اپنے وجود کا حصہ نہ بنائیں اور وہ وجود کا حصہ تب بنتی ہے جب آپ کے دل میں ایک نور پیدا ہو اور نور نور پر لپکتا ہے۔اس بنیادی نکتے کو آپ