خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 41

خطبات طاہر جلد ۹ 41 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء میں تجھے اپنی طرف بلانے کے لئے متوجہ کرنے کے لئے ایک ظاہری نور کی صورت میں دکھائی دیا تھا۔چنانچہ اس وقت سے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ وحی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور وہ پیغام عطا ہوتا ہے۔یہ بحث الگ ہے اور لمبی ہے کہ یہ واقعہ کب ہوا تھا۔کیا حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے سفر سے پہلے آپ کو جانے کا اشارہ ملا تھا یا نہیں کیونکہ قرآن کریم سے یہی پتہ چلتا ہے کہ سفر سے پہلے آپ کو جانے کا اشارہ مل چکا تھا اور یہ بعد میں اس کی تفصیل عطا ہوئی ہے۔مگر میں اس بحث کو یہاں نہیں چھیڑ نا چاہتا۔مراد میری یہ ہے کہ وہاں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں پہلے نور کی ایک طلب پیدا ہوئی اور جس آنکھ نے وہ نور دیکھا ہے اس آنکھ کو اندرونی طور پر نور بصیرت حاصل تھا ور نہ آپ کے اہل کو وہ نور کیوں دکھائی نہ دیا۔اگر وہ کوئی ظاہری آگ ہوتی تو آپ اپنی بیگم کو بتاتے یا جو بھی سفر کے ساتھی تھے ان کو کہتے وہ دیکھو سامنے آگ جل رہی ہے اور اس آگ سے ہم کچھ حصہ پاتے ہیں۔ہوسکتا ہے کچھ لوگ آگ کے گرد بیٹھے ہوں ان سے ہم ہدایت پائیں اور یا آگ میں سے کچھ حصہ لے لیں لیکن قرآن کریم کے بیان سے پتا چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی اور کو وہ آگ نظر نہیں آرہی تھی۔یہ وہی مضمون ہے جو اندرونی بصیرت کے نور کا مضمون ہے۔جب تک اندرونی نور نصیب نہ ہو خدا کا نور دکھائی نہیں دیتا اور جب اندرونی نورنصیب ہو جائے تو پھر خدا کا نور جلوہ گر ہو کر پہلے نور کونُور عَلى نُورٍ (النور:۳۷) بنادیتا ہے مگر دونوں واقعات کا فرق بتا تا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے نور کی قوت کیا تھی اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے نور کی قوت اس کے مقابل پر کیا تھی۔بہت بڑا فرق ہے۔ایک جگہ قلب محمد مصطفی ﷺ کو طور بنا دیا گیا ہے اور وہاں خدا کا نور جلوہ گر ہوتا ہے۔ایک جگہ موسیٰ تلاش میں طور کا سفر کرتے ہیں اور وہی طور ہے جہاں جب وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھے وہ شان دکھا جو تو نے آئندہ آنے والے ایک نبی کو دکھانی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اس کا متحمل نہیں ہوسکتا تو میری پوری رؤیت نہیں کر سکتا۔پس یہ تو نبوت کا مضمون ہے اور نبوت کا مضمون اندرونی نور سے شروع ہوتا ہے اور بیرونی نور پر جا کر اتمام پاتا ہے۔پس قرآن کریم نے جہاں آتمِمُ لَنَا نُورَنَا (التحریم: 9) کی دعا سکھائی وہاں یہ بھی بتا دیا کہ محض ایک شعلہ نور کا حاصل ہونا کافی نہیں۔اس کے اتمام کے لئے کوشش بھی کرتے رہو اور دعا بھی کرتے رہو۔