خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 460 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 460

خطبات طاہر جلد ۹ 460 خطبه جمعه ۱۰ راگست ۱۹۹۰ء قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمر آن :۳۲) کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! نام تو نہیں لیا گیا مگر مخاطب آپ ہیں ) تو ان سے کہہ دے جو تیری پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ اس کے دو معنی ہیں۔یعنی ایک ہی معنی میں اگر پہلے حصے پر زور دیا جائے تو اور معنی نکل آئیں گے دوسرے حصے پر زور دیا جائے دوسرے معنی ابھر آئیں گے۔عام طور پر دوسرے حصے پر زور دیا جاتا ہے اور یہ مطلب ہے جو اپنی ذات میں درست ہے کہ اے محمد ﷺ! یہ اعلان کر کہ اگر تم خدا کی محبت کے اپنے دعوے میں بچے ہو تو میری پیروی کر کے دکھاؤ کیونکہ میں محبت کے دعوے میں سچا ہوں اور اس محبت کے نتیجے میں جو تقاضے پیدا ہوتے ہیں وہ میں پورے کر رہا ہوں اس لئے میری پیروی کرو تو تمہاری محبت کا دعوی سچا نکلے گا۔اگر پہلے حصے پر زور دیا جائے تو ایک اور معنی نکلتا ہے جو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء کے معنے کو اور واضح کر دیتا ہے۔وہ یہ ہے کہ اگر تم نے میری پیروی کرنی ہے تو محبت کے بغیر نہیں کر سکو گے اگر خدا سے محبت نہیں ہے تو نہیں کر سکو گے۔اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي یعنی تُحِبُّونَ اللہ کے پہلے حصے پر زور ہوگا مراد یہ ہوگی کہ میری پیروی کرنے کی خواہش رکھنے والو یا درکھو۔اگر تمہیں خدا سے محبت ہے تو پیروی کرسکو گے۔اگر خدا سے محبت نہیں ہے تو نہیں کر سکو گے۔پس حُنَفَاء لِلَّهِ کا مضمون اور کھل کر واضح ہو گیا کہ اگر خدا سے محبت ہے تو پھر عبادتیں، نیکیاں، زکوۃ خدمتیں سب قبول ہوں گی۔اگر نہیں ہے تو پھر یہ ساری ظاہری چیزیں ہیں اور بے معنی اور بے حقیقت ہو جاتی ہیں۔اس مضمون کو سمجھنے کے بعد یہ پتا چلتا ہے کہ کیوں دنیا میں بڑے بڑے عبادت گزار اور جبہ پوش اور دستار بند لوگ ایسے ہیں جن کے متعلق انسان اپنی فطرت سے محسوس کرتا ہے کہ یہ تقویٰ سے خالی لوگ ہیں، بے معنی اور بے حقیقت لوگ ہیں۔ان کے اندر کشش کی بجائے نفرت پیدا ہوتی ہے اور اپنی طرف جذب کرنے کی بجائے وہ دھکہ دینے والے لوگ ہوتے ہیں۔ان میں رعونت دکھائی دے گی۔ان میں دنیا کے لحاظ سے بہت بڑائی اور رعب بھی دکھائی دے گا۔مگر پیار سے خالی لوگ ہوتے ہیں کیونکہ جن کی عبادتیں اللہ کے پیار سے خالی ہوں ان کے تعلقات دنیا کے پیار سے بھی خالی ہو جایا کرتے ہیں، یعنی وہ خود دنیا کی طرف جھکتے ہیں مگر دنیا والوں کے لئے ان کے دلوں