خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 459

خطبات طاہر جلد ۹ 459 خطبه جمعه ۱ اگست ۱۹۹۰ء وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزَّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ (الج:۳۲-۳۱) که قول زور سے بچو حُنَفَاء اللہ اس کا کیا مطلب ہے کہ جھوٹ سے بچو اللہ کے لئے حنیف ہوتے ہوئے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا کہ شرک نہیں کرنا۔مراد یہ ہے کہ جھوٹ کے وقت انسان غیر اللہ کی پناہ میں آتا ہے اور جھوٹ کو اختیار کرناہی یہ بتارہا ہے کہ اللہ کی طرف جھکاؤ نہیں ہے دنیا کی طرف جھکاؤ ہے۔اس لئے جھوٹ ثابت کرتا ہے کہ انسان حنیف نہیں رہا۔ایک اس کا یہ مطلب ہے۔دوسرا یہ مطلب یہ ہے کہ جھوٹ تم اس لئے اختیار کرتے ہو کہ تمہارا تو کل غیر اللہ پر ہے۔اگر تم جھوٹ سے بچو اور یہ سوچ کر بچو کہ اب تو میں نے غیر سے تو کل ہٹا دیا ہے، اب میرا تو کل اللہ پر ہو گیا ہے۔میں اللہ کی طرف گر گیا ہوں تو پھر شرک نہیں کرنا پھر یا درکھنا کہ خدا ایسے گرنے والوں کو سنبھال لیا کرتا ہے۔تو یہ وہی مضمون ہے کہ حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جہاں فیصلوں میں یہ خطرہ بھی ہو کہ دوسری طرف میری ہلاکت ہے۔اس ہلاکت کو دیکھتے ہوئے یعنی ایسے مقام پر سچ بولنا جہاں پتا ہو کہ اس کی سزا یقینی ہوگی پھر بھی گرتا ہے تو خدا کی طرف گرتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی صورت میں اگر تم جھوٹ سے اس لئے پر ہیز کرنے والے ہو کہ تم حنیف ہو چکے ہو تم مجبور ہو بے اختیار ہو۔میرے سوا تمہارا کوئی در ہی نہیں رہا۔تو پھر یا درکھو کہ اگر تم مشرک نہیں ہو تو میں بھی موحدین کو چھوڑنے والا نہیں ہوں۔میں تمہاری ضرور حفاظت کروں گا۔تمہیں اپنی پناہ میں لے لوں گا۔تمہیں اپنی گود میں اٹھالوں گا۔پس یہ وہ مضمون ہے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء کا جس میں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا محبت کا پہلو بھی بہت نمایاں ہے۔اخلاص اور محبت دراصل ایک ہی چیز کے دونام ہیں اور اس کی پہچان یہی ہوا کرتی ہے کہ دو فیصلوں میں ہمیشہ جس شخص سے محبت ہے اس کے حق میں فیصلہ ہوا کرتا ہے جس سے محبت نہ ہو یعنی اس میں انصاف کی بات نہیں ہو رہی۔میں کسی اور کے حق میں انصاف کی بات نہیں کر رہا۔اپنے رجحانات کی بات کر رہا ہوں۔ایک انسان نے دو چیزوں میں سے ایک اختیار کرنی ہے وہاں انصاف کا فیصلہ نہیں ہے۔اس اختیار کے وقت ہر شخص لازماً بے اختیار ہو کر محبت والا فیصلہ کرے گا اور جس سے کم محبت ہے اس کی طرف نہیں جھکے گا ، پس بغیر محبت کے کوئی عبادت نہیں یہ نتیجہ نکلا۔بغیر محبت کے نہ کوئی نماز ہے نہ کوئی زکوۃ ہے اور اس مضمون کو مزید تقویت ملتی ہے قرآن کریم کی ایک اور آیت سے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے