خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 458
خطبات طاہر جلد ۹ 458 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۹۰ء پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر تم میں دنیا کی کوئی ملونی ہوئی تو تم ہلاک ہو جاؤ گے، اس کا ایک اور حل یہ بھی ہے کہ ایسے عاجز بندے جو دنیا کی ملونی رکھتے ہوئے نیکی کی طرف میلان رکھتے ہیں اور فکر رکھتے ہیں اور ہمیشہ اپنے گناہوں پر غموں میں گھلتے رہتے ہیں اور یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ابرار میں مارنا۔خدا تعالیٰ رفتہ رفتہ ان کو مارتے وقت اس مقام تک پہنچا چکا ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی نقطہ ان میں باقی نہیں رہتا۔ایک یہ معنی ہیں مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء کے۔دوسرے اس کے معنی عشق کے ہیں اور محبت کے ہیں مُخْلِصِينَ کسی کے لئے مخلص ہونے سے مراد ہے اس سے محبت کرنا اور محبت کی پہچان یہ ہے کہ غیر محبوب کے مقابل پر ہمیشہ انسان محبوب کو ترجیح دیتا ہے اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ جس چیز سے محبت ہے اس کے مقابل پر اس کو ترجیح دے دے جس سے نفرت ہے۔یہ ایک قانون فطرت ہے جس میں کسی انسان کا دخل نہیں ، چارہ کوئی نہیں۔جیسے کشش ثقل ہر چیز کو اپنے دائرے میں اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس کے خلاف کوئی طاقت کام نہیں کر سکتی۔اس طرح وہ چیزیں جو بظاہر زمین سے دور ہو رہی ہوتی ہیں اپنے مکینیکل ذریعوں سے، کشش ثقل ان کو بھی کھیچ رہی ہوتی ہے ، جب میں کہتا ہوں کہ دنیا کی کوئی طاقت اس قانون سے باہر نہیں رہ سکتی تو یہ بالکل درست بات ہے۔ہر چیز جوز مین سے دور ہو رہی ہے کسی اور ذریعے سے، اس پر بھی کشش ثقل مسلسل اثر انداز ہو رہی ہوتی ہے اور اس کو اپنی طرف کھینچ رہی ہوتی ہے۔یہ وہ قوانین ہیں جو غیر مبدل ہوا کرتے ہیں، ان کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔تو محبت کا قانون یہ ہے کہ جب بھی دو فیصلے ہوں، انسان قدر تا طبعاً محبت کی طرف جھکتا ہے اور نفرت کو کبھی محبت پر ترجیح نہیں دیتا۔مخلصین سے مراد ہے: محبت کرنے والے اور حنفاء میں ان کی محبت کی پہچان بتادی۔وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں ان کے اعمال تبھی قبول ہوں گے اگر وہ محبت کے ساتھ عبادت بجالانے والے ہوں ،اگر وہ خدا کی محبت کے ساتھ نمازیں پڑھنے والے ہوں، اگر وہ دخدا کی محبت کے ساتھ زکوۃ دینے والے ہوں۔پہچان کیا ہے؟ ایسے لوگ حنیف ہوا کرتے ہیں، جب بھی خدا کے مقابل پر غیر اللہ کی بات ہو تو وہ خدا کی طرف جھکتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے جھوٹ سے بچنے کی ایک نصیحت کے وقت بھی یہی نصیحت فرمائی کہ