خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 455

خطبات طاہر جلد ۹ 455 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۹۰ء الگ رسالے کی صورت میں بھی شائع کیا۔اس میں جہاں ایسے مقامات آتے ہیں کہ اگر تم میں دنیا کی ایک ذرہ بھر بھی ملونی ہوئی تو تم قبول نہیں کئے جاؤ گے اور قریب ہے کہ تم ہلاک ہو جاؤ۔اس کو پڑھ کر بعض احمدی ایسے خوفزدہ ہوتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ بعضوں نے مجھے کہا کہ ہم سے تو یہ کتاب پڑھی نہیں جاتی کیونکہ اس کا ایک ایک فقرہ ہمیں متہم کرتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا دین سے کوئی تعلق ہی نہیں۔جتنا اعلیٰ معیار پیش فرمایا گیا ہے اور جتنی اعلیٰ تو قعات جماعت سے وابستہ فرمائی گئی ہیں ان کے پیش نظر تو یہ نظر ہی نہیں آتا کہ کوئی احمدی دنیا میں موجود ہو لیکن وہ اس عارفانہ نکتہ کو نہیں سمجھتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی سب سے اعلیٰ تعریف فرمائی ہے اور یہ تعریف آپ پر صادق آتی تھی۔تو ہر جگہ جب فرماتے ہیں کہ اس کا مجھ سے تعلق نہیں تو مراد یہ ہے کہ وہ اس مقام کو نہیں حاصل کر سکا جس مقام کو دینے کے لئے میں آیا ہوں اور یہ وہ مقام ہے جو میں نے محمد مصطفی ﷺ کی متابعت میں پایا اور اس میں ایک نقطہ بھی دنیا کی ملونی کا شامل نہیں ہے۔یہ وہی ”ح“ پر زائد ہونے والا نقطہ ہے جو ایک ظاہری تمثیل بن گیا ہے اور روحانی معنوں میں یہ وہ نقطہ کہلائے گا جو ایک متوازن شخصیت کو ایک طرف گرادے اور یہ دنیا کا نقطہ ہے۔یہ جب داخل ہو جائے تو فیصلوں میں ہمیشہ انسان دنیا کی طرف مائل ہونے لگتا ہے اب یہ محض ایک فلسفیانہ بات نہیں ہے۔روز مرہ کی زندگی میں اگر آپ غور کی نظر سے اپنے فیصلوں کو دیکھیں تو ہمیشہ یہی ہوتا ہے بعض لوگ جب دوراہوں پر کھڑے ہوتے ہیں تو بڑا مشکل وقت ہوتا ہے صحیح فیصلہ کرنے کا اور وہ ان دوراہوں پر بسا اوقات دنیا کی طرف جھکنے والے فیصلے کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو جب دو راہوں پر کھڑے ہوتے ہیں تو خواہ کیسا ہی کڑوا فیصلہ ہو وہ ہمیشہ دین کی طرف مائل ہونے والا فیصلہ کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن گواہی دیتا ہے کہ وہ نجات یافتہ ہیں کیونکہ وہ دِینُ الْقَيِّمَةِ پر قائم ہیں پس دِينُ الْقَيِّمَةِ کی تعریف میں حنیف کا داخل ہونا ضروری تھا ورنہ کیا پتہ کہ کسی کا دین خالص ہے کر نہیں ہے۔پس مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء کا تعلق نیت سے ہے اور انسان کے اندرونی رجحان سے ہے وہ اگر سچا اور خالص ہو گا تو اس کے نتیجے میں لاز ماوہ شخص حنیف بنے گا۔یعنی عملی دنیا میں وہ ہمیشہ خدا کی طرف گرنے والا اور خدا کی طرف جھکنے والا بن جائے گا ورنہ اس کا یہ دعویٰ کہ میں