خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 454
خطبات طاہر جلد ۹ 454 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۹۰ء بار یک راستہ ہے اور اس میں خطرہ ہے کہ انسان کسی طرف گر جائے۔اصل نقشہ مکمل تب ہو کہ اگر پل صراط کے ایک طرف جہنم ہو اور ایک طرف جنت ہو اور آدمی کے لئے ہمیشہ یہ خطرہ رہتا ہے کہ کہیں لڑکھڑائے اور کسی سمت میں گر جائے۔یہ حنیف کا لفظ یہ نقشہ پیش کرتا ہے کہ جب بھی ایسے فیصلے در پیش ہوں کہ انسان نے دنیا کو اختیار کرنا ہے یا دین کو اختیار کرنا ہے یا کبھی انسان لغزش بھی کھا جائے تو جب بھی گرے خدا کی طرف گرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی بنا پر بیعت میں یہ شرط رکھی کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔جب بھی میرے سامنے دو فیصلے آئیں گے ایک دنیا اور ایک دین کا اور ان کا مقابلہ ہوگا تو میں ہمیشہ بالا رادہ دین کو دنیا پر ترجیح دوں گا۔لیکن حنیف میں ارادے کا دخل نہیں ہے۔حنفاء جو حنیف کی جمع ہے اس میں مزاج اور فطرت کا بیان ہے۔ایک ایسا شخص جس کی فطرت نیک ہو اور پاکیزہ ہو اس کا جھکاؤ ہمیشہ خدا کی طرف اور بھلائی کی طرف رہنے والا ہو۔پس اس کی ٹھو کر بھی اس کو نجات دینے کا موجب بنے اور اس کا بالا رادہ فیصلہ بھی نجات ہی کا موجب بنے۔اس سے غلطیاں بھی ہوں تو صحیح سمت میں ہوں اور اس طرح اس کو ایک محفوظ زندگی یا معصوم زندگی خدا کی طرف سے عطا کی جاتی ہے جس کا ماڈل حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیش کیا گیا اور ان کا نام ہی حنیف رکھ دیا گیا۔لفظ حنیف کے ساتھ ہی عربی کا ایک اور لفظ بھی ہے جس میں صرف ایک نقطے کا اضافہ ہے یعنی جنیف ”ح“ کے نیچے نقطہ ڈال دیں تو وہ ” ج بن جاتی ہے اور اگر ” حنف“ کے ” میں نقطہ ہو تو ”جنف بن جائے گا۔اب یہ عربی زبان کا کمال کہنا چاہئے یا یہ کہنا چاہئے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی فرمایا کہ یہ الہامی زبان ہے۔یہ انسان کی بنائی ہوئی زبان نہیں ہے۔اسے تسلیم کریں تو یہ چھوٹی سی مثال اس ایمان کو، اس یقین کو اور تقویت دیتی ہے۔ایک ایسی چیز جو دو سمتوں کے درمیان متوازن ہوگئی ہو اگر ایک نقطے کا بھی اس میں اضافہ ہو تو وہ ایک دوسری طرف گر پڑے گی۔پس حنف کا مطلب ہے ہر دفعہ خدا کی طرف گرنے والا اور اگر اس پر دنیا کے ایک نقطے کا بوجھ بھی زائد آجائے تو وہ دنیا کی طرف گر پڑے گا اور یہ حقیقی پل صراط ہے جس میں ہمیں بہت احتیاط سے قدم اٹھانا ہوگا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشتی نوح میں اپنی تعلیم پیش کی ہے یعنی قرآن پر اور سنت پرمبنی تعلیم اس کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ہماری تعلیم“ کے نام سے ایک