خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 453
خطبات طاہر جلد ۹ 453 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۹۰ء نکالنی پڑتی ہے اور یہ جو واقفین نو کی تحریک ہے یہ بھی جماعت کی طرف سے اولاد کی زکوۃ ہے۔یعنی خدا تعالیٰ نے جو اولاد جماعت کو وسیع طور پر عطا فرمائی ، اس میں سے ایک حصہ خدا کے حضور زکوۃ کے طور پر پیش کر دیا گیا۔پس زکوۃ کا معنی بھی بہت وسیع ہے اور عبادت کا معنی بھی بہت وسیع ہے لیکن تینوں پر یہ شرط عائد ہوتی ہے کہ لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کہ خدا کی خاطر اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے ایسا کریں۔پس مخلصین کی شرط عبادت کے عمومی مفہوم پر بھی اطلاق پائے گی يُقِیمُوا الصَّلوةَ کے پر بھی اطلاق پائے گی اور زکوۃ کی ادائیگی پر بھی اطلاق پائے گی اور اسی کا نام فرمایا نُ الْقَيِّمَةِ ہے۔اگر خدا کی خاطر دین کو خالص کئے بغیر انسان کسی نوع کی بھی کوئی عبادت بجالائے وہ قبول نہیں ہوگی ، خدا کی خاطر دین کو خالص کئے بغیر کسی رنگ میں بھی نمازیں قائم کرے وہ قبول نہیں ہوں گی اور خدا کی خاطر دین کو خالص کئے بغیر اگر کسی طرح کی بھی انسان زکوۃ نکالے تو وہ رد کر دی جائے گی۔یہ بنیادی مفہوم ہے جس کے متعلق فرمایا گیا کہ یہ دِینُ الْقَيِّمَةِ ہے یہ ایک ایسا خداوند کی طرف سے جاری ہونے والا مذہبی قانون ہے جس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔ہمیشہ ہر مذہب کی بنیاد اسی اصل پر قائم کی جاتی رہی اور اسی اصل پر قائم رہے گی۔اب لفظ حُنَفَاء کا کچھ مزید تعارف ہونا چاہئے کہ اس سے کیا مراد ہے جب مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين ا فرما دیا گیا تو اس کا مطلب ہے اپنے دین کو خدا کے لئے خالص کر دیا حنفاء سے کیا مراد ہے ”حنیف “ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا لقب ہے اور جیسا کہ اس سے پہلے میں بعض دفعہ خطبات میں بھی اور قرآن کریم کے درس میں بھی بیان کر چکا ہوں کہ حنیف کا لفظی ترجمہ ہے ٹیڑھا اور ایک طرف جھکا ہوا۔چنانچہ لنگڑے کو بھی حنیف کہا جاتا ہے جس کا ایک پاؤں مڑا ہوا ہو جس کو پنجابی میں ڈ ڈا“ کہتے ہیں۔اس کو بھی عربی زبان میں حنیف کہا جاتا ہے۔پس یہاں ”حنیف سے کیا مراد ہے؟ مراد یہ ہے کہ ایک طرف جھکا ہوا۔یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسا جھکاؤ کہ جب بھی یہ فیصلہ در پیش ہو کہ گرنا ہے تو کس طرف گرنا ہے تو ہمیشہ خدا کی طرف گرے۔اب پل صراط کا جو نقشہ آپ کے ذہن میں آتا ہے عرف عام میں پل صراط کے متعلق بڑی بڑی کہانیاں بنی ہوئی ہیں۔اس کے نتیجے میں عرف عام میں ایک پل صراط کا نقشہ ذہن میں آتا ہے کہ ایک بہت ہی