خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 452
خطبات طاہر جلد ۹ 452 خطبه جمعه ۰ ا راگست ۱۹۹۰ء پر خرچ کریں وَ ذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ یہ وہ دین ہے جو قائم رہنے والا دین ہے۔یعنی وہ تمام ادیان کی بنیاد ہے جو ہر زمانے میں، ہر حال میں، ہر قوم میں یکساں قائم رہی اور ہر دین کی عمارت اسی بنیاد پر کھڑی کی گئی۔اس آیت میں عبادت کا ذکر پہلے کرنے کے بعد پھر نمازوں کے قیام کا ذکر فرمایا گیا ہے جو غور طلب بات ہے۔اگر عبادت سے مراد نمازیں ہی ہیں تو پھر دوبارہ نمازوں کا ذکر کیوں فرمایا گیا۔وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللہ انہیں کوئی حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ وہ خدا کی عبادت کریں۔اس کے بعد فرمایاؤ يُقِيمُوا الصَّلوةَ اور نماز کو قائم کریں۔پس معلوم ہوا کہ پہلی جگہ جہاں عبادت کا ذکر ہے وہاں وسیع تر مضمون ہے اور دوسری جگہ رسمی عبادت جو مذاہب سکھاتے ہیں وہ مذکور ہے۔یعنی وَ يُقِيمُوا الصَّلوۃ میں وہ رسمی عبادات بیان کی گئی ہیں جو ہر مذہب نے اپنے ماننے والوں کو سکھلائیں اور ان میں آپس میں اختلاف بھی ہے۔مختلف شکلوں میں وہ عبادتیں بجالائی جاتی ہیں۔پہلی آیات کا جو عبادت کا حصہ ہے اس کے ساتھ ایک شرط قائم کر دی گئی جو صرف اس عبادت کے ساتھ متعلق نہیں بلکہ بعد میں آنے والے حصص کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے اس کا ترجمہ پھر یوں بنے گا کہ وَمَا اُمِرُوا انہیں نہیں حکم دیا گیا اِلَّا لِيَعْبُدُوا الله مگر یہ کہ خدا کی عبادت کریں مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ دین کو اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اور اس کی طرف جھکتے ہوئے۔اس کی تشریح کیا ہے عبادت سے مراد کیا ہے ؟ یہ بعد میں بیان فرمایا: وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّکٰوۃ کہ اگر وہ خدا کی خاطر عبادت کریں گے اور خدا کی طرف جھکتے ہوئے عبادت کریں گے تو خدا اور بنی نوع انسان کے حقوق میں فرق نہیں کریں گے اور ان کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کریں گے۔پس پہلی عبادت میں خدا تعالیٰ سے تعلق کا وسیع تر مفہوم بیان ہوا ہے جس کے نتیجے میں انسان صرف خدا ہی کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے بندوں کا بھی ہو جاتا ہے اور قیام نماز پر انحصار نہیں کرتا یا اکتفاء نہیں کرتا بلکہ قیام نماز کے ساتھ بنی نوع انسان کے حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ رہتا ہے اور ان کا بھی پورا پورا خیال کرتا ہے۔پس زکوۃ جس کو ہم کہتے ہیں یہ صرف وہ رسمی شرح کے ساتھ چندہ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ زکوۃ جسم کی بھی ہوتی ہے، عقل کی بھی ہوتی ہے، انسان کو خدا نے جو بھی توفیق عطا فرمائی ہے ہر ایک کی زکوۃ