خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 445
خطبات طاہر جلد ۹ 445 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۹۰ء زیادتی بند کی جائے اور از سر نو اس طاقت اور دوسری طاقت کے درمیان جس پر حملہ کیا گیا ہے، صلح کروانے کی کوشش کی جائے اور پھر یا درکھو کہ اس صلح میں بھی تقوی کو پیش نظر رکھنا اور انصاف سے کام لینا۔پھر انصاف کی تاکید ہے کہ انصاف سے کام لینا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔پھر فرماتا ہے اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اخْوَةٌ یاد رکھو کہ مومن بھائی بھائی ہیں۔فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمُ پس ضروری ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح قائم رکھو اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو ، تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ان آیات کی روشنی میں ایک بات قطعی طور پر واضح ہوتی ہے کہ عالم اسلام نے اپنے با ہمی اختلافات میں قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کی ہدایت کو محوظ نہیں رکھا۔اگر مسلمان طاقتیں قرآن کریم کی اس واضح ہدایت کو پیش نظر رکھ کر اپنے معاملات نپٹانے کی کوشش کرتیں تو وہ ایک لمبے عرصے تک جو نہایت ہی خون ریز عرب ایران جنگ ہوئی ہے وہ زیادہ سے زیادہ چند مہینے کے اندر ختم کی جاسکتی تھی۔مشکل یہ در پیش ہے کہ دھڑا بندیوں سے فیصلے ہوتے ہیں اور تقویٰ کی روح کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔چنانچہ گیارہ سال تک مسلمان ممالک ایک دوسرے سے بٹ کر آپس میں برسر پیکار رہے اور بعض طاقتیں بعض کی مدد کرتی رہیں لیکن اس اسلامی اصول کو نظر انداز کر دیا گیا کہ سب مل کر فیصلہ کریں اور سب مل کر ظالم فریق کے خلاف اعلان جنگ کریں۔ایسی صورت اگر ہوتی تو صرف عرب اور ایران جنگ کا سوال نہیں تھا بلکہ پاکستان اور انڈونیشیا اور ملائیشیا اور دیگر مسلمان ممالک مثلاً شمالی افریقہ کے ممالک ، ان سب کو مشترکہ طور پر اس معاملے میں دخل دینا چاہئے تھا اور مشترکہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ظالم کو ظلم سے باز رکھنا چاہئے تھا۔اب ایسی ہی ایک بہت تکلیف دہ صورت اور سامنے آئی ہے کہ اب ایران اور عرب کی لڑائی نہیں بلکہ عرب آپس میں بانٹے جاچکے ہیں اور ایک مسلمان عرب ریاست نے ایک دوسری مسلمان عرب ریاست پر حملہ کیا ہے۔اس سلسلے میں عرب ریاستوں کی جو سربراہ کمیٹی ہے جو ان معاملات پر غور کرنے کے لئے غالبا پہلے سے قائم ہے، ان کے نمائندے کا اعلان میں نے سنا اور ٹیلی ویژن پر اس پروگرام کو دیکھا اور مجھے تعجب ہوا کہ اس لمبے تکلیف دہ تجربے کے باوجود ابھی تک انہوں نے عقل سے کام نہیں لیا اور قرآنی اصول کو اپنانے کی بجائے اصلاح کی کئی نئی راہیں تجویز کر رہے ہیں اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ ممالک