خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 434

خطبات طاہر جلد ۹ 434 خطبہ جمعہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۹۰ء یہ مضمون ہر انسان کی ذات پر صادق آتا ہے۔جوں جوں وہ ایمان اور تقویٰ میں ترقی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت سے اپنی حالت سدھارتا چلا جاتا ہے جب وہ چھیلی حالت کی طرف دیکھتا ہے تو یہ محسوس کرتا ہے کہ گویا اسے اندھیروں سے روشنی نصیب ہوئی ہے۔اندھیری رات میں سایہ دار جگہ سے اگر آپ چاندنی کی طرف باہر نکل آئیں تو آپ کو یہ محسوس ہوگا کہ آپ کو ہر قسم کی روشنی میسر آگئی اور اس سے بڑھ کر اور روشنی کیا ہوگی مگر یہ چاندنی رات جب صبح کی طرف منتقل ہوتی ہے اور پو پھوٹتی ہے تو انسان سمجھتا ہے کہ اس چاندنی کی تو کوئی حیثیت نہیں تھی اب روشنی نصیب ہوئی ہے اور جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ابتداء میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا روشنی ہوگی لیکن جب نصف النہار تک پہنچتا ہے تو روشنی کی کیفیت اور ہو جایا کرتی ہے۔سورج کا نور تو محدود ہے اس کے باوجود نسبتی لحاظ سے اندھیروں سے روشنی کی طرف آنے کا ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں۔خدا کا نور تو لا محدود ہے اس لئے وہاں اندھیروں سے روشنی کا سفر ایک جاری وساری سفر ہے اور ہر ایمان لانے والے کو اس معاملے میں خدا تعالیٰ سے ملتی رہنا چاہئے۔بمنت دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اے خدا! ہم ایمان لے آئے ہیں پس اب ہمیں اپنے وعدے کے مطابق اندھیروں سے روشنی میں منتقل فرما اور وہی وہ تلقین ہے جو دوسرے لفظوں میں لیکن اسی مضمون پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے خدا تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں فرمائی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ دعا سکھاتا ہے ہمیں) رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا تُنَادِى لِلْإِيْمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَا (ال عمران : ۱۹۴) اے ہمارے رب ! ہم نے ایک پکارنے والے کی پکار کو سُنا ، ایک صدا دینے والے کی صدا کو سنا اور وہ یہ اعلان کر رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ۔فَامَنَّا پس ہم ایمان لے آئے لیکن یہاں ہمارا سفر ختم نہیں ہوتا۔رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا پس اے ہمارے رب! اب ہمارے گزشتہ گناہوں کو بخش دے۔وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا اور ہماری برائیاں دور کرنی شروع کر دے۔پس ایمان لاتے ہی برائیاں دور نہیں ہوا کرتیں بلکہ ایمان لانے کے بعد انسان کو یہ سعادت نصیب ہو جاتی ہے کہ خدا کی مدد سے اُس کی برائیاں دور ہونا شروع ہو جاتی ہیں اگر وہ خدا سے مدد مانگتا رہے اور باشعور طور پر خود اپنے نفس کی نگرانی کرے۔چنانچہ فرمایا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ اور مؤمن کا یہ سفر