خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 435
خطبات طاہر جلد ۹ 435 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۰ء موت تک جاری رہتا ہے۔فرمایا ہمیں اس حالت میں وفات دینا کہ تیرے نزدیک ہم ابرار میں شامل ہو چکے ہوں۔پس ہر مؤمن کا اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر موت تک جاری رہتا ہے۔اس کے بعد یہ دعا سکھائی۔رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيِّمَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (ال عمران : ۱۹۵) کہ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے اب یہ التجاء کرتے ہیں کہ ہمارے حق میں وہ سارے وعدے پورے فرما دے جو تو نے گزشتہ رسولوں کو ہمارے متعلق عطا فرمائے تھے اور قیامت کے دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کرنا اور ہم جانتے ہیں کہ تو سچے وعدوں والا ہے اور کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ان دونوں مضامین کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ان کے فتح سے پہلے یعنی بیرونی فتح سے پہلے نفس پر فتح حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے ان دعاؤں کو اس ترتیب میں رکھا۔پہلے نفس پر فتح کی دعا سکھائی۔ہم ایمان لے آئے ، ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں گزشتہ گناہوں سے بخشش فرما اور آئندہ مسلسل ہماری اصلاح فرما تارہ اور ہماری بدیاں دور کرتارہ یہاں تک کہ ہم تیری نظر میں ابرار میں شامل ہو چکے ہوں اور اس حالت میں ہمیں موت دینا۔جب یہ دعا مکمل طور پر مؤمن کے حق میں سنی جاتی ہے، جب وہ اپنے نفس پر کامل طور پر فتح یاب ہو جاتا ہے پھر وہ حق رکھتا ہے کہ خدا سے ان وعدوں کے پورا کرنے کی دعا کرے جو مؤمنوں کی فتح کے وعدے گزشتہ انبیاء کو عطا کئے گئے تھے اور بغیر پہلی دعا کی قبولیت کے دوسری دعا کی قبولیت ممکن نہیں ہے اور اگر پہلی دعا کی قبولیت کے بغیر دوسری دعا قبول ہو جائے تو دنیا کے لئے بھلائی کا موجب نہیں بلکہ سخت نقصان کا موجب ہوگی کیونکہ وہ لوگ جو ایمان کے باوجود اپنی بدیاں ترک نہیں کر سکتے وہ اگر دنیا کے سردار بنا دئیے جائیں تو تمام دنیا کے لئے اس میں خوشخبری نہیں بلکہ ہلاکت کا پیغام ہے۔پس دیکھئے قرآن کریم نے کس فصاحت و بلاغت کے ساتھ اور کس گہری حکمت کے ساتھ ایسی دعائیں سکھائیں جن دعاؤں میں وہ مضمون نہایت ربط کے ساتھ اور اپنے مرتبہ اور مقام کے مطابق آگے بڑھتا ہے اور ہمیں یہ سب دے دیا گیا کہ اگر تم نے اپنے اعمال کی اصلاح نہ کی تو خدا سے ان وعدوں کی طلب نہ کرنا جو وعدے تمہارے حق میں پہلے انبیاء کو دیئے گئے ہیں۔پھر یہ دعا سکھائی کہ اے خدا! قیامت کے دن ہمیں ذلیل اور رسوا نہ کرنا۔ایمان والوں کو ذلیل اور رسوا کرنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟ وہ پہلی آیت نے حل کر دیا۔اگر ایمان کے بعد اخلاقی اور عملی حالت میں کوئی