خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 429
خطبات طاہر جلد ۹ 429 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۰ء مومن اور منافق میں فرق جلسہ پر جانے والے پاکستانیوں کو نصائح ( خطبه جمعه فرموده ۲۷ جولائی ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنَ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمُ اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ امَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أوليتهم الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّوْرِ إِلَى الظُّلمتِ أُوليك أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ ﴾ (البقره: ۲۵۷، ۲۵۸) پھر فرمایا: یہ آیات سورہ بقرہ سے لی گئی ہیں۔ان کا ترجمہ یہ ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔ہدایت کبھی سے کھل کر واضح ہو چکی ہے۔پس جو شخص بھی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے اُس کا ہاتھ گویا ایک ایسے مضبوط کڑے پر جا پڑا ہے، ایک مضبوط کڑے پر پڑ چکا ہے اور اُسے مضبوطی سے تھام چکا ہے کہ جس کے لئے ٹوٹنا نہیں اور اللہ تعالیٰ بہت ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔اللہ تعالیٰ یقیناً ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے وہ ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور وہ