خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 37
خطبات طاہر جلد ۹ الله 37 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء نور عطا ہو جائے۔ایسے شخص کے لئے مغفرت کا مضمون ہے اور وہ لوگ جونور کو پہچانتے ہیں اور اس کی ان گواہیوں کو چھپا دیتے ہیں جو ان کے خلاف ہیں۔ان کی ذات کے خلاف ہیں۔اپنی آنکھیں بھی ان سے بند کر لیتے ہیں اور لوگوں پر بھی اس تعلیم کو ظاہر نہیں ہونے دیتے اور اپنی کبھی کی تائید میں آیات کے بعض ٹکڑے نکال کر وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں جو اپنے مضمون سے الگ کر کے دوسرے معنوں میں پیش کئے جاتے ہیں کیونکہ کبھی کی کوئی تعلیم نور میں تو نہیں ملتی۔تو فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے تو کوئی بخشش نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو اس حال میں چھوڑ دے گا کہ وہ اپنے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہ جائیں گے۔اور ان کو کچھ بھی نصیب نہیں ہوگا۔پس نو کا تعلیم کی صورت میں نصیب ہونا کافی نہیں بلکہ نور کا اپنی ذات کو عطا ہونا ضروری ہے۔اور اس مضمون پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنے دل میں ایک نور پیدا کرتا ہے اس نور کے نتیجے میں پھر باہر کا نور اس کو عطا ہوتا ہے۔بغیر اس اندرونی نور کے محض تعلیم کا نور اس کے لئے کوئی بھی فائدہ نہیں دیتا۔تعلیم کے نور کی مثال سورج کی روشنی کی سی ہے۔جو جب نکلتا ہے تو اس سارے کرہ ارض کو روشن کر دیتا ہے جس پر وہ طلوع ہوا ہے اور اس کی ساری فضا کو روشنی سے بھر دیتا ہے لیکن وہ لوگ جن کو نور بصیرت عطا نہیں ہوتا وہ اسی طرح اندھیروں میں رہتے ہیں اور اس نور سے کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔پس قرآن کریم نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ اپنے نفس کے لئے نور حاصل کرو اور وہی نور ہے جو تم دوسروں کو عطا کرنے کے اہل ہو گے۔اگر دنیا کی اصلاح کے لئے نکلے ہو تو چراغ لے کر نکلو لیکن وہ چراغ نہیں جو تعلیم کی صورت میں ملتا ہے یعنی محض وہ چراغ لے کر نہیں بلکہ اپنے نفوس میں وہ چراغ روشن کرو جن کے ذریعے تم روشنی والے بن جاؤ اور تم دوسروں کو روشنی دکھانے کی اہلیت حاصل کر لو۔لیکن فرمایا کہ یہ وہ چیز ہے جو خالصہ اللہ سے نصیب ہوتی ہے اور اپنے طور پر انسان زبر دستی حاصل نہیں کر سکتا۔وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ (النور: ٤١ ) وه شخص جس کو خدا نور عطا نہ کرے، اس کے لئے کوئی نور نہیں ہے۔پس اس پہلو سے وہ پہلی آیت جو میں نے تلاوت کی تھی وہ دعا کے طور پر ہمیں سکھائی گئی ہے اور ہمیں سمجھایا گیا ہے کہ خدا سے نو ر مانگا کرو کیونکہ خدا کی طرف سے عطا کردہ نور کے سوا اور کوئی نور میسر نہیں آسکتا اور نور حاصل کرنے کا اور اس دعا کی قبولیت کا ذریعہ یہ بتایا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ملالہ پر حقیقی ایمان لے آؤ۔