خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 38
خطبات طاہر جلد ۹ 38 38 خطبہ جمعہ ۱۹/جنوری ۱۹۹۰ء حقیقی ایمان تو ایک بہت ہی وسیع مضمون ہے یہاں اس مضمون کا خلاصہ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک ایسی ذات تھے جن پر جونورا تارا گیا وہ آپ کے جسم میں اس طرح تحلیل کر گیا کہ آپ گویا مجسم نور ہو گئے۔اور اس مضمون کو قرآن کریم نے بار ہا بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تم پر ایسا رسول نور کی صورت میں اتارا ہے جو مجسم ذکر الہی ہے اور کئی جگہ آنحضرت ﷺ کو اسی طرح نور قرار دیا جس طرح قرآن کریم کو نور قرار دیا اسی طرح نور قرار دیا جس طرح فرقان کو نور قرار دیا اور نور کا لفظ دونوں پر یکساں اطلاق کر کے یہ دکھا دیا کہ آنحضرت ﷺ کی ذات میں خدا کا نور مجسم ہو گیا ہے۔یہ تعلیم اس طرح کھول کھول کر بار بار قرآن کریم میں بیان ہوئی کہ مسلمانوں میں سے ایک فرقے کو ٹھوکر لگ گئی اور وہ ان بچگانہ بحثوں میں پڑ گئے کہ آنحضرت ﷺ کا جسم تھا بھی کہ نہیں کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ نور تھے اور اتنا واضح نور کا لفظ آپ کی ذات پر قرآن کریم اطلاق فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو بچگا نہ نظر سے اس تعلیم کو دیکھا وہ سمجھے کہ یہاں نور سے مراد یہ ہے کہ آپ کا جسم تھا ہی نہیں صرف نور ہی نور تھے اور جو کچھ ہمیں دکھائی دیتا تھا وہ محض ایک نظر کا دھو کہ تھا۔ایک عکس سا تھا ورنہ حقیقت میں آپ کا کوئی جسم نہیں تھا۔اس لئے یہ بحثیں عام ہو گئیں کہ آپ کا سایہ تھا کہ نہیں تھا۔آپ کی جو ماہیت تھی وہ کس قسم کی تھی اور ایک بہت بڑا فرقہ اس کے نتیجہ میں وجود میں آیا ہے اور ایک دوسرا فرقہ ایسا بنا جس نے جسم پر زور دینا شروع کیا اور نور کے پہلو کو حقیقت میں نظر انداز ہی کر دیا۔مقابلے میں آکر جسم پر اتنا زور دیا کہ گویا آنحضرت ﷺ نور نہیں تھے اور محض بشر تھے۔حالانکہ قرآن کریم یہ بتانا چاہتا ہے کہ آپ ایک ایسے بشر تھے جو نور بن گئے اور بشر کو نور میں تبدیل کرنے کے لئے وحی کی ضرورت ہے اور خدا سے تعلق کی ضرورت ہے۔پس یہ جو مضمون ہے کہ خدا سے نور ملتا ہے۔اس کو ہی قرآن کریم نے بیان فرمایا۔جب فرمایا کہ : قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الْهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ ( الكيف : 1) كه دیکھو میں بظاہر تم جیسا ہی بشر ہوں۔پھر یہ اتنا فرق تم کیا دیکھتے ہو؟ یہ فرق وحی کا فرق ہے۔تمہارے جیسا بشر مگر ایسا بشر جس پر وحی نازل ہونے لگ گئی۔پس بشریت کو نور میں تبدیل کرنے کے لئے وحی کی ضرورت ہے اور یہ وحی آنحضرت ﷺ کی وساطت سے ہمیں نصیب ہوئی لیکن یہ جب تک ہمارے ذاتی نور میں تبدیل نہ ہو اس وقت تک ہم اندھے رہیں گے۔اور اس کو ذاتی نور میں تبدیل