خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 414

خطبات طاہر جلد ۹ 414 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۹۰ء ذمہ داری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نمائندگی میں اُس کی ہوتی ہے کہ وہ مہمان نوازی کے فرائض انجام دے اور اگر بعد میں تکلیف کی خبر پہنچے تو اُسے بہت تکلیف پہنچتی ہے۔اس لئے جلسے کے دوران میں شکایات کے معاملے میں اُس قسم کی پابندیاں نہیں ہوتیں کہ فلاں رستے سے فلاں رستے تک پہنچو اور پھر اُس کے بعد فلاں رستے تک پہنچو مختلف حالات کے مطابق نظام بدلتے ہیں۔اگر کوئی شخص ڈوب رہا ہے تو اُس نے تو آواز دینی ہے کہ مجھے بچاؤ۔اُس کے لئے کوئی باقاعدہ چینل مقرر تو نہیں ہوا کرتا کہ وہ فلاں کو کہے، وہ فلاں کو کہے پھر اُس کے آگے فلاں کو اطلاع پہنچے۔اس لئے ہنگامی حالات کے مطابق ہنگامی نظام جاری ہوتے ہیں۔شکایات موقع پر کریں۔ایسی صورت میں سارے منتظمین کا فرض ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے معاونین پورے کریں۔اگر مہیا نہ ہوں تو بلا تاخیر افسر معاونین سے مطالبہ کریں اور اگر معقول مدت کے اندر یعنی ایسی مدت کے اندر جس میں انتظام کو نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو کیونکہ ضرورت پوری نہ ہو تو بلا تاخیر مجھے چٹ بھجوا دیں کہ فلاں ضرورت پڑی تھی اور ابھی تک پوری نہیں ہوئی خطرہ ہے کہ اگر دیر ہوگئی تو ہمارے نظام میں خرابی آ جائے گی۔اسی ضمن میں چونکہ شکایات کی بات ہو رہی ہے آنے والے مہمانوں سے بھی میری یہی درخواست ہے کہ وہ اپنی شکایات موقع پر کیا کریں۔بسا اوقات وہ موقع پر صبر کر جاتے ہیں اور واپس گھروں میں جانے کے بعد بے صبری دکھاتے ہیں۔یعنی جب صبر کا موقع نہیں اُس وقت صبر کرتے ہیں جب صبر کا موقع آئے اُس وقت بے صبری دکھا جاتے ہیں۔یعنی ان معنوں میں کہ پھر وہ اپنی شکایتیں لوگوں تک پہنچاتے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ایک چھوٹا سا واقعہ بھی جماعت کے کارکنوں کی اتنی بدنامی کا موجب بن سکتا ہے بعض دفعہ کہ اگر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت میں یہ نظام جاری نہ ہو کہ بروقت مجھے اطلاع کر دیتے ہیں تو وہ خرابیاں آگے بڑھتی چلی جائیں۔مثلاً پیچھے یہاں کسی شخص نے لفٹ دینے کے بہانے کرائے وصول کرنے شروع کئے۔اب یہ مجھے علم نہیں کہ بہت زیادہ دفعہ واقعہ ہوا یا ایک دو دفعہ لیکن ایک دو دفعہ یہ واقعہ قطعی طور پر ہوا کہ ایک صاحب نے جب مہمان رخصت ہو رہے ہوتے تھے وہاں موٹر کھڑی کر دی کہ آؤ جی بیٹھو، تشریف لائیں ، اپنی موٹر میں بیٹھئے اور جب وہ مہمان بیٹھ گئے تو ہر ایک سے اُترتے وقت دس دس پونڈ وصول کرنے شروع کر دیئے۔اس قسم کی مشکل صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ جس سے مطالبہ کیا جائے وہ بیچارہ پھر دینے پر مجبور