خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 413
خطبات طاہر جلد ۹ 413 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۹۰ء دفعہ بریک ڈاؤن ( کام میں تعطل ہونے کی صورتیں ) ہو جاتے تھے اچانک بارش آگئی اور خیمے اُڑ گئے جس کی وجہ سے غیر معمولی طور پر بہت زیادہ کارکنوں کی ضرورت پیش آتی تھی۔بعض لوگ پراتیں الٹا کر کے نان بائیوں کے اوپر سائبان بناتے تھے، کچھ زائد پیڑے بنانے والے درکار ہوتے تھے، کچھ زائد روٹیاں بنانے والے کیونکہ نا تجربہ کار کارکن زیادہ وقت لیتا ہے اس لئے جتنی کمی آتی تھی نان بائیوں میں یا پھر روٹی پکانے والوں میں اُس سے کئی گنا زیادہ کارکنان کی ضرورت پڑ جاتی تھی۔تو ایسے موقع پر ہمارا تجربہ ہے کہ مہمانوں سے جب بھی درخواست کی گئی تو وہ بڑے شوق کے ساتھ ، بڑے ولولے کے ساتھ پیش ہوئے ہیں اور بعض دفعہ مقامی کارکنان سے بھی آگے بڑھ گئے۔اس لحاظ سے یہ خیال کہ معاونین کی کمی ہو جائے گی یہ تو ایک وہم ہے جس کا کوئی بھی حقیقت سے تعلق نہیں۔کمی ہو سکتی ہے صرف ان معنوں میں کہ انتظامیہ بیدار نہ ہو اور کسی کو پتا نہ ہو کہ کس کا کام ہے؟ اس لئے میں یہ بات وضاحت سے پیش کر رہا ہوں اور چونکہ اب یہ جلسے کا نظام خدا کے فضل سے دُنیا کے بیس سے زائد ممالک میں جاری ہو چکا ہے اور رفتہ رفتہ پھیلتا چلا جارہا ہے اور اُمید ہے کہ چند سال کے اندر اندر انشاء اللہ قادیان کا جلسہ اپنے ہم شکل جلسے اتنے پیدا کر دے گا کہ سو ممالک سے زائد میں ویسے ہی جلسے ہوا کریں گے اور ہر ملک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لنگر جاری ہوگا۔پس چونکہ جماعت کو یہ نام بہت پیارا ہے اور مسیح موعود کا لنگر کے ساتھ ہی دل نرم ہو جاتے ہیں اور طبیعت میں بے شمار محبت جوش مارتی ہے اس لئے اس جلسے کو کارکنان کی کمی نہیں ہوسکتی۔جہاں بھی ہو گا خدا کے فضل سے اس لحاظ سے برکت ہوگی لیکن انتظام کی خرابی کی وجہ سے یا کسی کی لاعلمی کی وجہ سے کہ یہ کام میرا ہے بھی کہ نہیں ایسی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔چنانچہ مجھے پچھلا جلسہ گزرنے کے بعد ایک منتظم نے بتایا کہ ہمارا کام اگر کمزور ہوا ہے یا ہم وقت کے مطابق ضرورت پوری نہیں کر سکے تو اُس میں ہمارا قصور نہیں کا رکن نہیں تھے لیکن اُن کا ایک قصور ضرور تھا کہ اگر کارکن نہیں تھے تو فوری مطالبہ کیوں نہیں کیا گیا اور اگر فوری مطالبہ کیا گیا تھا اور اس کی طرف توجہ نہیں ہوئی تو فوری طور پر مجھے کیوں مطلع نہیں کیا گیا۔جلسے کے دوران شکایات کے زیادہ رابطے نہیں ہوا کرتے بلکہ افسر متعلقہ کو بات کہی جاتی ہے اگر وہ ضرورت پوری نہ ہو تو فوری طور پر خلیفہ وقت کو اطلاع پہنچا دی جاتی ہے کیونکہ آخری