خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 408

خطبات طاہر جلد ۹ 408 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء جھگڑے اور بھاری اکثریت جو فساد کی دکھائی دیتی ہے اگر چہ دوسری جماعتوں کے مقابل پر بہت ہی کم ہے لیکن فساد کے دائرے میں جو بھاری اکثریت فسادیوں کی دکھائی دیتی ہے وہ اس دُعا کے اثر سے مرجھا کر بے حقیقت ہونے شروع ہو جائیں گے۔بیماری تب بڑھتی ہے اگر بیماری کو پھیلنے کے لئے مناسب مواد مہیا ہو۔پس یہ لوگ جو فسادیوں کے سربراہ ہیں یہ دراصل No mans land پر حملہ کرتے ہیں۔جو خدا کے ہیں اُن کے متعلق تو خدا تعالیٰ کا فرمان ہے اور وہ قطعی اور یقینی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں سے مخلصین کو اور متقیوں کو وہ کبھی خدا سے کاٹ کر الگ نہیں کر سکتے۔جتنا بڑا مرضی ابتلاء آ جائے ایسے وفادار ہمیشہ نظامِ جماعت کے وفادار رہتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں جب بعض ایسے لوگوں کو بھی سزا دینی پڑتی ہے اُن کی غلطیوں کی وجہ سے تو اُن کی اولا د بجائے پیچھے ہٹنے کے اور زیادہ تقویٰ میں ترقی کرتی ہے کیونکہ اپنے والدین کو گھروں میں روتے اور معافیاں مانگتے دیکھتے ہیں، گڑ گڑاتے دیکھتے ہیں اور پھر وہ نصیحت سنتے ہیں مسلسل کہ دیکھو ہم سے غلطی ہوئی ہے تم آئندہ کوئی غلطی نہ کرنا اور وہ سمجھتے ہیں کہ نظام خلافت سے کٹنا ہی اتنی بڑی سزا ہے، اتنا بڑا عذاب ہے کہ اُس کا دُکھ برداشت نہیں ہو سکتا۔یہ متقیوں کی علامت ہے کہ وہ جب ابتلاؤں میں پڑتے ہیں اُس کے باوجود اُن کی اولا دیں ایمان میں زیادہ ترقی کرتی ہیں اور وہ دوسرے لوگ ہیں وہ رفتہ رفتہ اُن لوگوں پر حملہ کرتے ہیں جو درمیان کے لوگ ہیں اور اُن کی زمین کو جو کھلی چھوڑی ہوئی زمین ہے اپنانے لگتے ہیں۔اس پہلو سے ایک اور مضمون تربیت کا میرے سامنے اُبھرا ہے وہ یہ ہے کہ تمام جماعت کے متقیوں کا کام ہے جو متقیوں کے سردار ہیں کہ وہ یہ نظر رکھا کریں کہ اُن کی ساری زمین متقی ہے کہ نہیں ہے اور اپنے تقویٰ کی زمین کو بڑھائیں اور جو بیچ کے پڑے ہوئے لوگ ہیں اُن کو ان ظالموں کے رحم و کرم پر نہ رہنے دیں کیونکہ جب بھی ابتلاء ہوں گے یہ بیچ کے لوگ اُن کے قابو آ ئیں گے۔اس لئے ان سب کو رفتہ رفتہ ادنیٰ حالتوں سے اونچا کر کے اعلیٰ حالتوں کی طرف لے جائیں اور ایسا متقیوں کا گروہ بنادیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ اُن کا ہاتھ ایک ایسے عروہ وثقی پر پڑا ہوا ہے لَا انفِصَامَ لَهَا ( البقرہ:۲۵۷) جس کے مقدر میں ٹوٹنا ہے ہی نہیں۔کسی قیمت پر پھر وہ اُس خدا کی رسی سے الگ نہیں ہو سکتے۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور یادرکھیں افتراق سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی گناہ نہیں ہے۔یہی شرک ہے جو خدائے واحد ہے اُس کے ماننے والے