خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 36
خطبات طاہر جلد ۹ 36 خطبه جمعه ۱۹ جنوری ۱۹۹۰ء درانی ہو کیونکہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ ہر تعلیم جو خدا نے انبیاء کو عطا فرمائی وہ نور ہی کی تعلیم تھی لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس نور کو اپنا کر اپنی ذات کے لئے اس نور سے حصہ نہیں پایا ، وہ اس تعلیم سے کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: قُلْ مَنْ أَنْزَلَ الْكِتَبَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى نُوْرًا وَهُدًى لِلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهُ قَرَاطِيْسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ قُلِ اللَّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ (الانعام : ۹۲) - کہ ان سے کہہ وہ کون سی ذات تھی جس نے وہ کتاب اتاری جو موسیٰ لے کر آیا نُورًا وَهُدًى لِلنَّاسِ وہ نور تھی اور لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب تھی تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيْس تم نے اسے کاغذ بنا ڈالا ۔ یعنی کاغذوں کا سلوک کیا محض تحریریں سمجھ کر ان کو پڑھتے رہے یا اپنے گھروں میں رکھتے رہے۔ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا عن تحریر میں تو تم ظاہر کرتے رہے اور لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہے یہ ہماری روحانی کتاب ہے ۔ اس کتاب سے ہم نے نور حاصل کیا ہے ۔ وَ تُخْفُونَ كَثِيرًا مگر اس کے جو اچھے نورانی پہلو تھے ان کو دبا دیتے رہے۔ ان کے اچھے پہلوؤں سے صرف نظر کرتے رہے ان کو نظر انداز کرتے رہے۔ یا اس تعلیم کے بعض حصوں کو پیش کرتے رہے اور بعض حصوں کو چھپاتے رہے جو تمہیں مجرم کرتے تھے۔ یہ دونوں معنی ہیں اس کے اور جو قو میں نور دیکھ کر نور سے استفادہ نہ کریں وہ نوران پر گواہ ٹھہرتا ہے اور ان کو بتاتا ہے کہ تم ظلم کرنے والے ہو اس لئے ایسی قو میں بھی ہیں جن کو نو ر عطا ہوا ان کو اس نور نے دکھا دیا کہ تم کہاں کہاں غلطی کر رہے ہو اور اس کے باوجود اس سے وہ صرف نظر کرتے رہے اور لوگوں سے وہ گواہیاں چھپاتے رہے جو دراصل ان کی ذات کے خلاف گواہیاں تھیں ۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نور سے کسی قسم کا استفادہ نہیں کیا۔ پس یہ دو الگ الگ مضمون ہیں۔ ایک وہ کہ کسی کو نور عطا ہو جائے اور وہ عمدا جان بوجھ کر ۔ اخفاء سے کام نہ لے اور اس کی روشنی سے حتی المقدور استفادہ کی کوشش کرتا رہے اور اس کو اپنے دل کا