خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 396
خطبات طاہر جلد ۹ 396 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء پریذیڈنٹ وغیرہ جو بھی عہدہ ہو یا مربی اُس سے اختلافات ہو جاتے ہیں اور ان اختلافات کی بنا پر وہ اپنے ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے جن کو امیر یا مربی وغیرہ سے ویسے کوئی الگ شکایات ہوں۔چنانچہ یہ شکایتوں کا ٹولہ محض حب علی کی بنا پر نہیں بلکہ بعض معاویہ کی بنا پر اکٹھا ہوتا ہے اور جو بھی امیر کا دشمن ہو گا یا نظام کے کسی عہدیدار کا دشمن ہو گا جس سے یہ مخاصمت چل رہی ہے وہ سرکتے ہوئے ان لوگوں کے اندر داخل ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر ان کی مجلسیں جس طرح دانشوروں کی مجلسیں ہوا کرتی ہیں اُس طرح اس خیال سے کہ گویا ہم دانشور ہیں اور ہم جماعت کے اعلیٰ درجے کی سوچ رکھنے والا طبقہ ہیں اور اُن پاگلوں میں سے نہیں ہیں جو آنکھیں بند کر کے اطاعت کرتے ہیں۔اس طرح کا ایک ٹولہ نمودار ہونا شروع ہوتا ہے اور وہ مجلسیں لگاتے ہیں اور امیر کو بھی ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور دوسرے عہدیداران کو بھی۔گویا وہ باہر بیٹھے نظام جماعت کی خامیاں تلاش کرنے پر وقف ہو جاتے ہیں اور جو نو جوان اُن کے دائرہ اثر میں جاتے ہیں وہ اُسی طرح زنگ آلود یا زخمی ہونے لگ جاتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ تقویٰ کی امامت سے کاٹ دیتا ہے اور ان معنوں میں جب آپ دُعا پر اور اس کی افادیت پر غور کریں تو حیران رہ جاتے ہیں۔غیر لوگ جن کا اس دُعا سے اور خدا سے اس رنگ میں تعلق نہ ہو، اس دعا کے واسطے سے تعلق نہ ہو اُن کے متعلق خدا کبھی یہ پرواہ نہیں کرتا کہ غیر متقیوں کو ان سے کاٹ کر الگ کر دے اور وہ بیچ میں ملتے رہتے ہیں اور اُسی طرح آہستہ آہستہ ساری قوم گندی ہو رہی ہوتی ہے اور اُن کو اچھے لوگوں سے الگ کر کے باہر پھینکنے کا کوئی نظام کام نہیں کر رہا ہوتا لیکن الہی نظام میں یہ لوگ خود بخود نکھر کر الگ ہونے لگ جاتے ہیں۔اب وہ دُعا که واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اگر مقبول ہو اور یہ لوگ پھر بھی صالح قیادت کے ساتھ رہیں تو یہ ممکن نہیں ہے، اس بات میں تضاد پایا جاتا ہے۔چنانچہ جب ہم یہ دُعا کرتے ہیں کہ اے خدا ہمیں متقیوں کا امام بنانا تو درجہ بدرجہ جو لوگ بھی اس دُعا کے اثر کے تابع اپنی زندگیاں گزارتے ہیں یعنی خدا سے یہی مانگتے ہیں اور عملاً یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ متقیوں کے ہی امام رہیں۔خدا تعالیٰ غیر متقیوں کو اس طرح اُن سے کاٹ کے الگ کرتا چلا جاتا ہے اور دو قیادتیں اُبھر جاتی ہیں۔ایک متقی قیادت اور ایک غیر متقی قیادت۔پس سوال یہ ہے کہ اس کی پہچان کیا ہے؟ کون سی منتقی